اسپرچول تہذیب کے اجزا
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
مادی تہذیب سے بہت زیادہ بڑے ہیں۔ یہ واقعات پوری تاریخ میں مسلسل طور پر پیش آتے رہے ہیں، لیکن ان واقعات کے محسوس مظاہر کہیں موجود نہیں، اس لیے لوگ اُن سے واقف نہیں۔ روحانی تہذیب کے واقعات ہمیشہ افراد کی سطح پر ان کی داخلی دنیا میں غیر مرئی طور پر پیش آتے ہیں۔ یہ افراد اگرچہ انسانی تاریخ کے اعلیٰ ترین افراد ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنی طبعی عمر پوری کر کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ان کی پیدا کردہ روحانی تہذیب کو نہ ان کی زندگی میں لوگ دیکھ پاتے اور نہ ان کی وفات کے بعد۔
اسپرچول تہذیب کے اجزا
مصر کے بادشاہوں نے 2300-2700 قبل مسیح کے درمیان مصر میں بڑی بڑی سنگی عمارتیں بنائیں جو اہرام (pyramids) کے نام سے مشہور ہیں۔ ہندوستان کے بادشاہ شاہ جہاں نے 1630-48 عیسوی کے درمیان آگرہ (یوپی) میں تاج محل بنوایا۔ اس طرح کی ہزاروں عمارتیں ہیں جو مادی تہذیب کے تاریخی مظاہر کے طور پر دنیا کے مختلف ملکوں میں دکھائی دیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسپرچول تہذیب کے تحت جو واقعات ظہور میں آئے، اُن کا ریکارڈ کہاں ہے۔ کیا وہ اسی لیے تھے کہ وقتی ظہور کے بعد وہ معدوم ہو جائیں اور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا سوال ہے۔
مثال کے طور پر آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ایک معاملے پر نزاع ہوئی۔ قابیل سخت غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں تم کو مار ڈالوں گا۔ اس کے جواب میں ہابیل نے کہا: لِئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ (5:28) یعنی اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ چناں چہ ہابیل قتل ہو گیا، مگر اس نے اپنے بڑے بھائی قابیل پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اُس وقت ہابیل کے سینے میں خوفِ خدا کا جو طوفان آیا ہوگا، وہ بلاشبہ اہرام مصر اور تاج محل جیسی عمارتوں سے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues