Al-Risala · September 2013 · page

اسپرچول تہذیب کے اجزا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

یہ استہزا کی بات نہیں، یہ سب تمھاری مزدوری کی رقم کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد وہ مزدور ان تمام جانوروں کو ہنکا کر لے گیا اور ایک بھی نہ چھوڑا۔ میں نے مزدور کو نہیں روکا اور اُس پر راضی رہا۔ (صحیح البخاري، أحاديث الأنبياء، حديث الغار، رقم : 3465)

اُس آدمی نے جب یہ فیصلہ کیا تو اُس وقت اس کے سینے میں دیانت داری (honesty) کا ایک عظیم طوفان برپا ہوا ہوگا۔ یہ واقعہ بلا شبہہ اہرامِ مصر اور تاج محل جیسی سنگی عمارتوں سے بے حساب گنا زیادہ بڑا تھا۔ کیا یہ واقعہ محض اس لیے ہوا کہ وہ صرف ایک شخص کے سینے میں برپا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے۔ اس طرح کے واقعات جو افراد کی زندگی میں داخلی طور پر پیش آئے، ایسے کسی واقعے کو اُس فرد نے تو یقیناً جانا جس کو اس کا تجربہ پیش آیا تھا، لیکن اس کی اپنی ہستی کے باہر اُس کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیا، وہ صرف غیر مرئی قسم کا ایک ذاتی احساس بن کر رہ گیا۔ ہر عورت اور مرد شعوری یا غیر شعوری طور پر چاہتے ہیں کہ اُن کے داخلی احساسات خارجی واقعہ بن کر نمایاں ہوں۔ جو کچھ انھوں نے وقتی طور پر محسوس کیا تھا، وہ اُسی طرح تاریخ کا مستقل حصہ بن جائے جس طرح دوسری بہت سی چیزیں تاریخ کا مستقل حصہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ایک سوال ہے اور قرآن کے مطالعے سے اس کا واضح جواب معلوم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل مادی تہذیب ہے جو قیامت کے دن معدوم ہو جائے گی اور جہاں تک روحانی تہذیب کا سوال ہے، وہ اپنی پوری صورت میں ظاہر ہو کر ابدی طور پر اپنا جلوہ دکھاتی رہے گی۔ دو مختلف انجام قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مادی تہذیب کی ترقیاں صرف وقتی ترقیاں ہیں۔ قیامت کا بھونچال مادی تہذیب اور اس کے تمام آثار کو یکسر مٹا دے گا۔ قیامت کے بعد بننے والی دنیا میں اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَالْبَقِيَّاتُ الصَّلِحَتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا (18:46) یعنی مال اور اولاد دنیوی زندگی کی رونق ہیں ۔ اور باقی رہنے والے اعمالِ صالحہ تمھارے رب کے نزدیک اجر اور امید کے اعتبار سے بہتر ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page