Al-Risala · September 2013 · page

اسپرچول تہذیب کے اجزا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

جادو گر اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قَالُوا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا (20:72) یعنی جادو گروں نے کہا کہ ہم تجھ کو ہرگز اُن دلائل پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اُس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے۔ پس تم کو جو کچھ کرنا ہے، اُسے کرڈالو- تم جو کچھ کر سکتے ہو، اِسی دنیا کی زندگی کا کر سکتے ہو۔ مصر کے جادو گروں نے یہ جملہ موت کی قیمت پر کہا تھا۔ اُس وقت اُن کے دل میں سچائی کا جو طوفان بر پا ہوا ہوگا، وہ بلاشبہہ اہرام مصر اور تاج محل جیسی سنگی عمارتوں سے بے شمار گنا زیادہ عظیم ہے۔ کیا سچائی کا یہ طوفان صرف اس لیے تھا کہ وہ کچھ انسانوں کے سینے میں وقتی طور پر بر پا ہو اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کا وجود مٹ جائے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جو صحیح البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں بنی اسرائیل کے تین صالح افراد ایک سفر پر روانہ ہوئے۔ درمیان میں بارش آگئی۔ چناں چہ انھوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی۔ اُس وقت وہاں لینڈ سلائڈ (landslide) کا ایک واقعہ ہوا۔ اس کی وجہ سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ یہ پتھر اتنا بڑا تھا کہ تینوں آدمی مل کر بھی اس کو ہٹا نہیں سکتے تھے۔ اُس وقت انھوں نے طے کیا کہ ہر ایک اپنے کسی خاص عمل کے واسطے سے دعا کرے۔ چناں چہ انھوں نے دعا کی اور پتھر ہٹ گیا، پھر وہ لوگ غار سے باہر نکل آئے۔ ان تینوں میں سے ایک شخص وہ تھا جس نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ، میں مزدوروں سے کام لیا کرتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک مزدور کسی بات پر غصہ ہو گیا۔ وہ اپنی مزدوری لیے بغیر چلا گیا۔ اس کے بعد میں نے اس کی مزدوری کی رقم سے ایک گائے خریدی۔ اس گائے میں اتنی برکت ہوئی کہ دھیرے دھیرے گائے اور بکری اور اونٹ کا ایک بہت بڑا گلہ اکٹھا ہو گیا۔ ایک عرصے کے بعد وہ مزدور دوبارہ آیا اور اپنی مزدوری کا تقاضا کیا۔ اُس وقت میرے گھر کے سامنے کا میدان جانوروں کے گلے سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ سب تمھارا ہے، اس کو لے جاؤ۔ مزدور نے کہا کہ مجھ سے استہزا نہ کرو۔ میں نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page