امتِ محمدی کا مشن
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
پولیٹکل ایمپائر صرف محدود جغرافی علاقہ میں قائم ہو سکتا تھا۔ جدید حالات میں ای ایمپائر (e-empire) کسی رکاوٹ کے بغیر پورے کرہ ارض کی سطح پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ عالمی امکانات بلا شبہ صرف دعوت الی اللہ کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔
امتِ محمدی کا مشن
امت محمدی کا مشن کیا ہے۔ وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے ۔ پیغام محمدی کو ہر زمانہ میں اور ہر قوم میں پہنچاتے رہنا۔ نسل در نسل اس کو جاری رکھنا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ یہی یہی امت محمدی کا واحد مشن ہے۔ یہی امت محمدی کا اصل فریضہ ہے۔
امتِ محمدی کی دنیا و آخرت کی سعادت اسی دعوتی مشن کی انجام دہی پر منحصر ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کام ان کو فلاح و سعادت سے ہم کنار کرنے والا نہیں، نہ موجودہ دنیا میں اور نہ آخرت کی دنیا میں۔
حضرت نوح کی اہمیت
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی کشتی کو آیت (sign) کا درجہ دے دیا: ولقد تر کناھا آیۃ فھل من مد کر (54:15) یعنی ہم نے کشتی کو ایک نشانی کے طور پر باقی رکھا، تو کیا ہے کوئی نصیحت لینے والا۔
اس تذکیری مقصد کے اعتبار سے حضرت نوح کا انتخاب سب سے زیادہ موزوں انتخاب ہے۔ حضرت نوح قبل تاریخ دور میں پیدا ہوئے ، اس لئے ہزاروں سال تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ خالص تاریخی اعتبار سے حضرت نوح کا کوئی وجود نہیں۔
ایسی حالت میں بائبل اور قرآن میں حضرت نوح اور ان کی کشتی کا ذکر کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کی حیثیت نامعلوم تاریخ کے بارے میں ایک پیشین گوئی (prediction) کی تھی۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو کشتی اور طوفانِ نوح کا بطور ایک تاریخی واقعہ دریافت ہونا بے حد اہم ہے۔ وہ ثابت کرتا ہے کہ انسانی زندگی کی نوعیت کے بارے میں قرآن کا بیان بالکل درست ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues