Al-Risala · January 2013 · page

حضرت نوح کی اہمیت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

پیغمبروں نے جس آخرت اور اس کے محاسبہ کی خبر دی تھی، وہ بالکل صحیح خبر تھی۔ دابہ کا ظہور گویا اسی حقیقت کا ایک خاموش اعلان ہے۔

اب آخری وقت آگیا ہے کہ انسان بیدار ہو۔ وہ دابہ کی خاموش آواز کو سنے، وہ قرآن کا دوبارہ مطالعہ کرے۔ وہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ انسانی تاریخ بظاہر اپنے خاتمہ کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اب اپنی اصلاح کے لیے انسان کے پاس بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ لوگوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اُس وقت کی تیاری کریں جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُون (7:34) یعنی جب اُن کا وقت آجائے گا تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ آخرت کا اعلان خدا نے موجودہ زمین (planet earth) کو انسان کے عارضی قیام کے لئے بنایا ہے۔ اس کی ایک مدت مقرر ہے۔ زمین کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) بھی اسی محدود مدت کے اعتبار سے بنایا گیا ہے۔

خدا کے علم کے مطابق، جب یہ محدود مدت پوری ہوگی تو اس کے فورا بعد صور پھونک دیا جائے گا جو اس بات کا اعلان ہوگا کہ انسانی تاریخ کا پہلا دور ختم ہو چکا، اب وہ وقت آگیا ہے، جب کہ انسان کے لئے دوسرے دور تاریخ کا آغاز کر دیا جائے۔

منصوبہ خداوندى کے مطابق، اس کے بعد اس دنیا کو توڑ کر ایک اور زیادہ بہتر دنیا بنائی جائے گی۔ اس دوسری دنیا میں صرف وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق امیدوار (deserving candidate) ثابت کر چکے تھے۔

خدا کو یہ مطلوب ہے کہ صور پھونکے جانے سے پہلے کچھ ایسی نشانیاں ظاہر ہوں جو پیشگی طور پر انسان کو یہ خبر دیں کہ موجودہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور دوسری دنیا شروع ہونے والی ہے۔ تم اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page