Al-Risala · September 2013 · page

اسپرچول تہذیب کا دور

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

تَحْتِهَا الْاَنْہٰرُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (57:12) یعنی جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کی روشنی اُن کے آگے اور ان کے دائیں چل رہی ہوگی۔ آج کے دن تم کو خوش خبری ہے اُن باغوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی تم اُن میں ہمیشہ رہو گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح سورہ الحدید کی ایک اور آیت میں ارشاد ہوا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (57:19) یعنی جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہی دوزخ والے ہیں۔ اسی قسم کی ایک آیت قرآن کی سورہ التحریم میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (66:8) یعنی اے ایمان والو، اللہ کے آگے سچی تو بہ کرو۔ امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے گناہ معاف کر دے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جس دن اللہ، نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ اُن کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہی ہوگی، وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کر دے اور ہماری مغفرت فرما۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

قرآن کی ان آیتوں میں نور (روشنی) کے دوڑنے کا ذکر لفظی طور پر دوڑنے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ پھیلنے کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں اُن کا نور دور دور تک پھیلا ہوا ہوگا۔ مزید یہ کہ نور کا لفظ سادہ طور پر روشنی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اس معنی میں ہے کہ ان کے عمل کا روحانی حصہ (spiritual content) جو دنیا میں اعلیٰ داخلی تجربے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page