Al-Risala · September 2013 · page

اسپرچول تہذیب کا دور

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

آخرت میں متشکل (materialised) ہو کر خارجی طور پر دکھائی دینے لگے۔ بہ الفاظ دیگر، جو چیز دنیا کی زندگی میں صرف غیر مرئی نور کی حیثیت رکھتی تھی، وہ آخرت میں قابل مشاہدہ اسپرچول تہذیب کی صورت اختیار کرلے گی۔ مادی تہذیب جس طرح دنیا میں قابل مشاہدہ ہے، اسی طرح اسپرچول تہذیب آخرت میں قابل مشاہدہ ہو جائے گی۔

مذکورہ آیت میں 'أجرهم ونورهم کا لفظ نہایت اہم حقیقت کو بتا رہا ہے۔ اس آیت میں اجر سے مراد جنت کی مادی نعمتیں ہیں اور نور سے مراد وہ تہذیب ہے جو جنت میں ایک روشن واقعہ بن جائے۔ اہل جنت ایک طرف لكم فيها ما تشتهى أنفسكم کے بمصداق، جنت کی اعلیٰ نعمتوں سے محظوظ ہوں گے اور دوسری طرف یہ ہوگا کہ ان کے اندر داخلی سطح پر پیدا ہونے والی ربانی کیفیات جو دنیا میں غیر مرئی حقیقت بنی ہوئی تھیں، آخرت میں وہ قابل مشاہدہ نور کی صورت میں نمایاں ہو جائیں گے۔ آخرت میں ظاہر ہونے والے اس واقعے کو نورانی تہذیب یا اسپرچول تہذیب کے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح مذکورہ آیت میں اہل جنت کی زبان سے یہ لفظ ادا ہوا ہے: 'أتمم لنا نورنا‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو نے ہمیں جس اعلیٰ ربانی تجربے کی توفیق دی، وہ دنیا میں غیر مرئی بنا رہا۔ اب آخرت میں تو ہمارے ساتھ یہ مزید احسان فرما کہ ان داخلی ربانی تجربات کو خارجی واقعے کی صورت میں ظاہر کر دے۔ جس طرح مادہ پرست انسان کی داخلی دریافت خارجی طور پر دنیا میں مادی تہذیب کی صورت میں متشکل ہوئی تھی، اُسی طرح اب تو آخرت میں ہماری داخلی ربانی دریافتوں کو خارجی طور پر نورانی تہذیب یا اسپرچول تہذیب کی صورت میں متشکل کردے۔ یہی مطلب ہے مذکورہ آیت میں اتمام نور کا۔ آئڈیا کا متشکل ہونا خواہ مادی تہذیب کا معاملہ ہو یا اسپرچول تہذیب کا معاملہ، دونوں کی نوعیت اس اعتبار سے یکساں ہے۔ دونوں کا وقوع ابتداءً ایک غیر مرئی آئڈیا (invisible idea) کی صورت میں ہوتا ہے، بعد کو وہ خارجی صورت میں متشکل ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ مادی تہذیب کا بھی ہے اور

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page