انسانی دماغ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
انسانی دماغ
فطرت کا ایک قانون ہے جس کو ریزیلینس کا قانون (law of resilience) کہا جاتا ہے، یعنی نقصان کی تلافی کرنے کا قانون۔ مثال کے طور پر اسپیج کو اگر دبائیں اور اس کو چھوڑ دیں تو اپنے آپ وہ دوبارہ اپنی سابق حالت پر واپس آجائے گا۔ بید (cane) کو اگر موڑیں اور پھر چھوڑ دیں تو اپنے آپ وہ دوبارہ پہلے کی طرح سیدھا ہوجائے گا۔ ربر کو اگر کھینچا جائے اور پھر چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنے آپ پہلے کی طرح ہوجائے گا، وغیرہ۔
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کو بھی فطری طور پر یہ صلاحیت دی گئی ہے کہ اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ خود اپنی داخلی صلاحیت کے زور پر دوبارہ اپنی اصل حالت پر واپس آجائے- انسان کا دماغ اس معاملے کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ دماغی سائنس کے ایک امریکی ماہر ڈاکٹر بروس (Bruce) نے لکھا ہے کہ ــ انسان کا دماغ تلافی مافات کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کو ایک موقع دو اور وہ خود ہر کوشش کر کے اس کو درست کر لے گا:
The brain is very resilient. Give it a chance and it will make every effort to repair itself. (Dr. Bruce McEwen, Head of Laboratory of Neuroendocrinology, The Rockefeller University, USA)
انسان کی زندگی میں بار بار حادثات پیش آتے ہیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے، لیکن اسی فطرت نے انسان کے اندر تلافی مافات کی بھی غیر معمولی صلاحیت رکھی ہے۔ انسان کے دماغ کو اگر متعصبانہ سوچ سے بچایا جائے اور اس کو غیر متاثر انداز میں سوچنے کا موقع دیا جائے تو انسان کا دماغ یہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ ہر حادثے کے بعد نئی منصوبہ بندی کر کے دوبارہ اس کی تلافی کر لے۔ انسان کی یہ صلاحیت بتاتی ہے کہ انسان کے لیے کوئی عذر (excuse) عذر نہیں۔ انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ہر نقصان کی تلافی کر سکے، وہ ہر مسئلے کا یقینی حل دریافت کر لے۔ وہ ہر پسپائی کے بعد نئی منصوبہ بندی کر کے آگے بڑھ جائے-
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues