Al-Risala · September 2013 · page

الجمہ، رین،

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

رہے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ وہاں ایک اور چیز ہے جو بظاہر دکھائی نہیں دیتی، مگر وہ مکمل طور پر موجود ہے۔ یہ دوسری چیز غیر مرئی لہروں (invisible waves) کی صورت میں ہے۔ اس غیر مرئی دنیا میں زندہ انسان ہیں، آوازیں ہیں اور مختلف قسم کی عملی سرگرمیاں ہیں، لیکن بظاہر وہ مکمل طور پر غیر مرئی ہیں۔ اس کے بعد آپ اپنے ٹی وی سیٹ کو آن کرتے ہیں تو اچانک اسکرین پر ایک پوری دنیا نظر آنے لگتی ہے، جو اُسی طرح کامل اور بامعنی ہے جس طرح ٹی وی سیٹ کے باہر کی دنیا۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اسپرچول تہذیب کیا ہے۔ وہ کس طرح آج بظاہر غیر موجود ہے اور آخرت کی دنیا میں وہ مکمل طور پر موجود ہو جائے گی۔ آخرت میں پیش آنے والا یہی وہ واقعہ ہے جس کے ایک پہلو کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا قَالُوا أَنْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (41:21)۔ آخرت میں اسپرچول تہذیب کے عملی ظہور کا واقعہ قدیم زمانے میں صرف ایک عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں ٹیلی ویژن کی ایجاد گو یا کہ اس معاملے کا ایک پیشگی مظاہرہ ہے۔ ٹیلی وژن کی ایجاد نے اسپرچول تہذیب کے عملی ظہور کو مشاہداتی (2013 جون 20)۔ بنادیا ہے۔(understandable)

سطح پر قابل فہم Glow Pharma, 302, A Wing, Koldongri CHS, Parsi Wada Bus Stop Sahar Road, Andheri, East Mumbai _ ہوسکا تو اس کے فوٹوگرافک کتابی سورس کا پاپڑوں (بہار) میں (بقیہ حسن اور علم کا مطالعہ)

الجمہ، رین،

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page