سمندروں کی سطح
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
یہ صرف ایک سائنسی خبر نہیں، یہ دراصل قرب قیامت کی خبر ہے۔ یہ سائنسی تحقیق کی زبان سے اُس انتباہ کی تصدیق ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کے انداز میں فرمایا تھا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، اپریل 2007، صفحہ 4)
جدید سائنسی رپورٹ میں جو بات سائنس کی زبان سے کہی گئی ہے، عین وہی بات مذکورہ حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں بطور پیشین گوئی بتائی گئی ہے۔ یہ پیشگی خبر اب واقعہ بن رہی ہے اور وہ وقت بہت قریب ہے جب کہ یہ واقعہ اپنی تکمیل تک پہنچ جائے۔
اِس تکمیلی مرحلے کا اعتراف اہلِ سائنس بھی کر رہے ہیں۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ اہلِ سائنس اس کو ایک طبعی واقعہ کے طور پر ذکر کرتے ہیں، جب کہ پیغمبر نے اُس کو انذار کی زبان میں بیان کیا ہے۔
پیغمبر نے انسان کو متنبہ کیا ہے کہ جب ایسا ہو تو یقین کر لو کہ قیامت کا وقت قریب آگیا۔ اب انسان کے لیے پہلا دور حیات ختم ہو چکا۔ اب خالق کے منصوبے کے مطابق، اُس کے لیے دوسرا دور حیات شروع ہونے والا ہے۔ اب ایسا ہونے میں کوئی دیر نہیں۔
مذکورہ قسم کی سائنسی رپورٹوں کے ساتھ میڈیا میں طرح طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اب ہمیں خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے۔ کوئی اعلان کر رہا ہے کہ سیارہ مریخ (Mars) پر پانی کی موجودگی کا امکان ہے، اس لیے اب انسان کو اپنی اگلی جائے قیام کے طور پر زمین کے بجائے مریخ کا انتخاب کرنا چاہئے، وغیرہ۔
مگر اس قسم کی تمام باتیں مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جیسی مخلوق کے لیے معلوم کائنات میں آبادکاری کے قابل کوئی جگہ نہیں۔
اب انسان کو صرف ایک کام کرنا ہے، وہ یہ کہ وہ خالق کائنات کی طرف رجوع کرے، وہ اللہ سے اس کی رحمت کا طلب گار بنے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues