Al-Risala · September 2013 · page

حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ

مقابل کے صفحے پر دور پورٹیں درج کی گئی ہیں۔ یہ نظریہ ارتقا کی کچھ حالیہ ریسرچ پر مبنی ہیں- مگر یہ ریسرچ کے نام پر صرف مغالطہ (fallacy) کے واقعات ہیں۔ مگر اس قسم کی مغالطہ آمیز تحقیقات سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ حیاتیاتی ارتقا کے سلسلے میں پہلا سوال یہ تھا کہ زندگی (life) کا آغاز کس طرح ہوا۔ ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع (The Origin of Species) میں مفروضہ طور پر یہ مان لیا کہ زندگی کا آغاز خدا (God) نے کیا۔ مگر دوبارہ یہ سوال تھا کہ حیاتیاتی ارتقا کے نظریے کے مطابق، عضویاتی ارتقا (organic evolution) کیسے ہوا اور ایک نوع دوسری نوع میں کیسے تبدیل ہوئی۔ مثلاً یہ فرض کیا گیا تھا کہ بکری نے ارتقا کرتے کرتے زرافہ کی صورت اختیار کر لی، مگر بکری اور زرافہ کے بیچ میں بہت سی درمیانی کڑیاں تھیں جو کہ واقعے کی دنیا میں موجود نہ تھیں۔ یہاں یہ مان لیا گیا کہ یہ سب گم شدہ کڑیاں (missing links) ہیں، مگر آج تک گم شدہ کڑی کا نظریہ غیر ثابت شدہ بنا ہوا ہے۔ نظریہ ارتقا کے مطابق، انسان کوئی اسپیشل مخلوق نہیں، وہ حیوانات کی اگلی ترقی یافتہ قسم ہے۔ مگر یہاں یہ سوال تھا کہ انسان تمام حیوانات بشمول چمپینزی سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہ اختلاف یا فرق کہاں سے آیا۔ اب ارتقا پسند حضرات یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے انسان کے اندر ایک نیا جین (gene) دریافت کر لیا ہے۔ اس مختلف جین کی بنا پر ایسا ہے کہ انسان کے اندر ایسا دماغ ہے جو کسی حیوان کے اندر نہیں۔ انسان کے اندر نطق (speech) کی صلاحیت ہے، اور انسان کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ اوزار (tools) بنائے اور ان کو استعمال کرے۔

مگر انسان کے اندر پائی جانے والی امتیازی صلاحیت (distinctive qualities) کی توجیہہ صرف یہ کہہ کر نہیں ہو سکتی کہ انسان کے اندر حیوان سے مختلف ایک امتیازی جین پایا جاتا ہے، کیوں کہ دوبارہ یہ سوال ہے کہ یہ امتیازی جین کہاں سے آیا۔ محض ارتقائی پر اس یا اتفاق (accident) کا لفظ اس انتہائی پیچیدہ واقعے کی توجیہہ نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page