Al-Risala · September 2013 · page

قابل کا ر انسان

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

قابل کا ر انسان

دنیا میں بے شمار لوگ ہیں۔ زمین کا ہر گوشہ انسانوں سے بھرا ہوا ہے۔ مگر دنیا میں سب سے زیادہ کمی جس چیز کی ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے قابل کا ر انسان (competent person)۔ مغل حکمراں اورنگ زیب عالم گیر (وفات: 1727) کا واقعہ ہے۔ ایک بار انھوں نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد انھوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے ۔ وہ ہاتھ اٹھائے ہوئے خاموش دعا کرتے رہے۔ اُس وقت اور نگ زیب کے پیچھے ان کے وزیر سعد اللہ خاں کھڑے ہوئے تھے۔ اور نگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعد اللہ خان نے کہا: عالی جاہ، آپ کی سلطنت کا پر چم کشمیر سے لے کر راس کماری تک لہرا رہا ہے، کیا اس کے بعد بھی کوئی ارمان ہے جو آپ کے دل میں باقی رہ گیا ہے۔ اور نگ زیب اس کو سن کر کچھ دیر خاموش رہے۔ اس کے بعد گہرے تاثر کے ساتھ کہا: سعد اللہ، مردے خواہم (سعد اللہ، میں ایک آدمی چاہتا ہوں)۔ اور نگ زیب کا یہ قول بتاتا ہے کہ وہ اصل حقیقت سے صرف ففٹی پرسنٹ واقف تھے۔ اس معاملے میں اصل بات یہ نہیں تھی کہ اور نگ کے پاس کوئی ’’مرد‘‘ نہیں تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ اور نگ زیب نے مرد بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ اور نگ زیب نے اپنی ساری عمر مملکت کی توسیع میں صرف کر دی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ قابل کا ر انسان کی اہمیت کو نہ تو انھوں نے سمجھا اور نہ اس کو تیار کرنے کے لیے انھوں نے کوئی حقیقی کام کیا۔

یہی حال تقریباً تمام اداروں اور تنظیموں کا ہے۔ ہر ادارے اور تنظیم کو یہ شکایت ہے کہ اس کے پاس افراد کار نہیں، مگر کسی کو یہ خبر نہیں کہ اصل غلطی کہاں ہے۔ اصل غلطی یہ ہے کہ تمام لوگ توسیع (expansion) کو کام سمجھتے ہیں، جب کہ اصل کام یہ ہے کہ استحکام (consolidation) کے لیے محنت کی جائے ۔ اور افراد کار ہمیشہ استحکام پسندی کے ماحول میں بنتے ہیں، نہ کہ توسیع پسندی کے ماحول میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page