قابل کا ر انسان
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
سوال وجواب سوال 1- مجھے ایک مطالعہ کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ سائنسی علم ایک نامکمل علم ہے جب کہ وحی (قرآن) کا علم ایک مکمل علم۔ سوال یہ ہے کہ ایک نامکمل اور ناقص علم کی مدد سے مکمل علم کی تشریح اور وضاحت کرنا کس حد تک درست ہے۔ سائنس کے ذریعے ہم ہر چیز کی حقیقت کو نہیں جان سکتے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ سائنسی نظریات بدلتے بھی رہتے ہیں۔ اس معاملے کی وضاحت کردیں۔ 2- آپ کی تحریروں میں اکثر ایک لفظ ذہنی ارتقا (intellectual development) پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس کی وضاحت کر دیں کہ اس سے کیا مراد ہے۔
3- فلسفیانہ فکر (philosophical thinking) اور سائنسی فکر (scientific thinking) میں کیا فرق ہے۔ نیز تشکیک (scepticism) کے زیادہ قریب کون سی فکر ہے۔ 4- آپ نے اپنی کتاب ’’رہنمائے حیات‘‘ کے ایک مضمون ’’صحیح طرزِ فکر‘‘ کے تحت لکھا ہے کہ آج کے انسان کا ذہنی لیول وہی ہے جو ماضی کے انسان کا تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ چوں کہ ماضی کی نسبت موجودہ زمانے میں انسان نے زیادہ ترقی کی ہے، لہذا موجودہ زمانے کے انسان کا ذہنی لیول بڑھا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسانی شعور نے زیادہ ارتقا حاصل کیا ہے۔
5- آپ نے اپنے ایک مضمون ’’طلاق اسلام میں‘‘ لکھا ہے کہ طلاق کے سلسلے میں ایک حل ’’حلالہ‘‘ بھی ہے۔ یعنی آپ اسے جائز سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ میرے علم کے مطابق، احادیث میں حلالہ کی ممانعت آئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کروانے والے کو کرائے کا سانڈ کہا ہے۔ اور علما کی اکثریت بھی اسے ناجائز کہتی ہے۔
6- کیا مرشد کے ہاتھ پر بیعت ضروری ہے۔ کیا مرشد کے بغیر اسلام کو نہیں سمجھا جا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues