Al-Risala · September 2013 · page

قابل کا ر انسان

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

(unseen world) سے باخبر کرتی ہے۔ قرآن وحدیث کے مطالعے میں اگر کسی سائنسی تحقیق کا حوالہ دیا جاتا ہے تو وہ اس کی تصدیق کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کی توجیہہ کے لیے ہوتا ہے۔ 2- قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: لكل آية منها ظهر وبطن (ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے)۔ جو چیز باطن میں ہے، اُس کو جاننے کا ذریعہ غوروفکر ہے۔ جب آپ غوروفکر کے ذریعے کلام کے باطن تک پہنچتے ہیں تو اسی کا نام ذہنی ارتقا ہے۔ 3- فلسفیانہ فکر قیاسی فکر پر مبنی ہوتا ہے اور سائنسی فکر مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔ تشکیک کی مروجہ اصطلاح فلسفہ کے ساتھ مخصوص ہے، سائنس میں یہ اصطلاح استعمال نہیں ہوتی۔ 4- تخلیق کے اعتبار سے، انسانی ذہن آج بھی اُسی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ وہ قدیم زمانے میں تھا۔ بہ اعتبار تخلیق دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ حیاتیاتی ارتقا کے نظریے کو جو لوگ مانتے ہیں، اُن کی رائے اس کے خلاف ہے۔ لیکن حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ صرف ایک مفروضہ ہے، وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔

5- حلالہ کروانا بلاشبہ ایک ناجائز فعل ہے، لیکن ’’حلالہ‘‘ کی ایک اور قسم ہے جو کہ خود قرآن سے ثابت ہے، اس کو سمجھنے کے لیے آپ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 230 کا مطالعہ فرمائیں۔ 6- بیعت کا طریقہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا۔ اس کے بعد صحابہ اور تابعین نے اس کی تقلید نہیں کی۔ جہاں تک مرشد کا سوال ہے، مرشد کوئی نام زدگی کا معاملہ نہیں، یہ کسی آدمی کی ذاتی دریافت کا معاملہ ہے۔ اگر آپ کو کسی پر اعتماد ہو تو اس کو اپنا مرشد بنا لیجیے۔ مرشد کا مطلب صرف دینی رہنما ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

7- اسلامی حکومت یا اسلامی نظام کا معروف نظریہ قرآن وحدیث سے ثابت نہیں۔ یہ ایک سیاسی بدعت ہے۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے بہت زیادہ لکھا ہے۔ مزید واقفیت کے لیے آپ اُس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ مثلاً دین وشریعت اور تعبیر کی غلطی، وغیرہ 8- موت کے بعد ہر مومن کا وہی انجام ہوتا ہے جو قرآن میں شہید کا بتایا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page