کلچرل ڈی کنڈیشننگ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
کلچرل ڈی کنڈیشننگ
ابوذر غفاری ایک صحابی ہیں۔ ان کے یہاں ایک غلام تھا جو سیاہ فام نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ ابو ذر غفاری کو کسی وجہ سے اپنے غلام پر غصہ آ گیا۔ انھوں نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: یا ابن السوداء (اے سیاہ فام عورت کی اولاد)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ابوذر غفاری سے فرمایا: إنك امرؤ فيك جاهلية (صحیح البخاري، رقم الحديث: 30) یعنی تم ایسے شخص ہو جس کے اندر ابھی تک جاہلیت موجود ہے۔
اس قول رسول کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے اندر ابھی تک پچھلے دور کے اثرات موجود ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی ایک کلچرل ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی کلچر میں پرورش پا کر وہ بڑا ہوتا ہے۔ وہ روزانہ اس کلچر کے اثرات قبول کرتا رہتا ہے، کبھی شعوری طور پر اور زیادہ تر غیر شعوری طور پر، یہاں تک کہ اس کی سوچ اور اس کا شعور سب اُسی کلچر میں ڈھل جاتے ہیں۔ اِسی کا نام کنڈیشننگ (conditioning) ہے۔ اس کلچرل کنڈیشننگ سے کوئی بھی عورت یا مرد خالی نہیں۔ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ، نظری طور پر اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے باوجود، کلچر کے اعتبار سے اس کی سوچ اور اس کی عادات پہلے کی طرح باقی رہتی ہیں۔ ایسی حالت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کی سوچ کو بدلا جائے، تا کہ وہ کلچر کے اعتبار سے اپنی ڈی کنڈیشنگ (de-conditioning) کر سکے۔
یہ کلچرل ڈی کنڈیشنگ (cultural de-conditioning) ایک بے حد مشکل کام ہے۔ یہ مشکل کام صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کا شعور اتنا زیادہ بے دار ہو کہ وہ سختی کے ساتھ اپنا محاسبہ کرے ۔ وہ نہایت بے رحمی کے ساتھ اپنے اندر سے پچھلے دور کے کلچرل اثرات کو دھو ڈالے۔ کلچرل ڈی کنڈیشنگ کی ضرورت صرف نومسلموں کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ پیدائشی مسلمانوں کے لیے بھی یکساں طور پر ضروری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues