سورہ الفاتحہ کا پیغام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳، صفحہ ۶
سورہ الفاتحہ کا پیغام
الفاتحہ قرآن کی پہلی سورہ ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ’’حمد صرف اللہ کے لیے ہے جو سارے عالم کا رب ہے۔ وہ رحمان اور رحیم ہے۔ روز جزا کا مالک ہے۔ ہم تیرای ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہم کو صراط مستقیم پر چلا۔ اُن کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ اُن کا راستہ نہیں جن پر تیر غضب ہوا، اور نہ اُن لوگوں کا راستہ جو صراط مستقیم سے بھٹک گئے‘۔ قرآن میں اس سورہ کا نام الفاتحہ ہے۔ فاتحہ کا لفظی مطلب ہے: ابتدا (The Opening)۔ یہ لفظ ترتیب کو بتاتا ہے، یعنی 114 سورتوں کی کتاب کی پہلی سورہ۔ مفسر صحابی عبداللہ بن عباس نے کہا کہ: أساس القرآن الفاتحة (القرطبی 1/113)۔ یہ قول اس سورہ کے معنوی پہلو کو بتاتا ہے۔ اساس کا لفظی مطلب ہے بنیاد۔ اس کا مطلوب یہ ہے کہ سورہ الفاتحہ میں قرآن کی تمام بنیادی باتیں (fundamentals) بیان کردی گئی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سورہ الفاتحہ قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ سورہ الفاتحہ کے مضامین کو 5 عنوانات کے تحت تقسیم کیا جاسکتا ہے— (1) خدا کی معرفت یعنی خدا کے وجود کو شعور کی سطح پر دریافت کرنا۔ (2) انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ کی دریافت۔ (3) اللہ کا عبادت گزار بننا جو اللہ کی معرفت کا لازمی نتیجہ۔ (4) ربانی ماڈل کی نظری دریافت (5) ربانی ماڈل کی عملی رویافت اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر و تشکیل۔ 1— ’’حمد صرف اللہ کے لیے ہے جو سارے عالم کا رب ہے۔ وہ رحمان اور رحیم ہے‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ خدا کی دریافت کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے جب کہ وہ خدا کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پالے جس کا ایک مستقل وجود ہے، جو سارے عالم کو پیدا کرنے والا اور اس کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ خدا کی سب سے بڑی صفت رحمت اور رافت کی صفت ہے۔ اس دریافت کو ایک لفظ میں ربانی دریافت کہاجاسکتا ہے۔ اس دریافت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر یقین کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ وہ ایک تھرل (thrill) کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues