Al-Risala · January 2013 · page

محاسبۂ آخرت کا اعلان

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

لامحدود استعمال کیا، جس کا تحمل ہماری محدود دنیا نہیں کر سکتی تھی۔ اب یہ وسائل اتنا زیادہ کم ہو چکے ہیں کہ ہر طرف سسٹینیبل ڈیویلپمنٹ (sustainable development) کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سسٹینیبل ڈیویلپمنٹ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ وسائل کے خاتمہ کا معاملہ ہے۔ وسائل کا یہ خاتمہ اتنا زیادہ حتمی بن چکا ہے کہ بعض سائنس دانوں مثلاً اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) نے یہ تجویز کیا ہے کہ انسانی نسل کو اگر باقی رکھنا ہے تو ہم کو خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک سائنٹفک جوک (scientific joke) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی قابلِ عمل تجویز۔

قیامت کے الارم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تاریخی پہلو کہا جا سکتا ہے۔ اس تاریخی پہلو کی غالباً سب سے زیادہ نمایاں مثال نوح کی کشتی (Ark of Noah) کا ظہور ہے۔ کشتی نوح کے ظہور کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہے۔ وہ تاریخی شہادت (historical evidence) کی زبان میں پیغمبرانہ مشن کا ایک علامتی بیان ہے۔

کشتی نوح یا دابۃ گویا زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ حضرتِ نوح اور اسی طرح خدا کے دوسرے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے، لیکن انسان نے ان کو اتنا زیادہ نظر انداز کیا کہ اپنی مدوّن تاریخ (recoded history) میں ان کا اندراج تک نہیں کیا۔

یہ کشتی نوح یا دابۃ اُس تاریخ کو بیان کر رہے ہیں جب کہ پیغمبر نے اپنے زمانے کے انسانوں کو آگاہ کیا کہ اگر انھوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی تو وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے، اور اب یہ واقعہ عملاً پیش آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشتی نوح یا دابۃ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کا علامتی اظہار ہیں۔ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے بارے میں ایک زندہ شہادت (living evidence) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

محاسبۂ آخرت کا اعلان

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اُس وقت کشتی نوح کا ماضی بھی لامعلوم تھا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page