محاسبۂ آخرت کا اعلان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
اور اس کا مستقبل بھی لامعلوم۔ نزولِ قرآن کی ہزار سال سے بھی زیادہ مدت گزرنے کے بعد کشتی نوح کے ماضی کے بارے میں قرآن کا بیان کامل طور پر درست ثابت ہوا۔
اسی طرح یقینی ہے کہ کشتی نوح کے مستقبل کے بارے میں قرآن کا بیان کامل طور پر درست ثابت ہوگا۔ ماضی کے بارے میں قرآن کے بیان کا درست ثابت ہونا اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کے بارے میں بھی اُس کا بیان درست ثابت ہو۔ ایک پہلو سے قرآن کی اعتباریت (credibility) ثابت ہونے کے بعد دوسرے پہلو سے قرآن کی اعتباریت اپنے آپ درست ثابت ہو جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کشتی نوح کا ظہور علامتی طور پر ایک پوری تاریخ کا ظہور ہے، یہ خدا کے تخلیقی منصوبہ اور اس کے مطابق پیغمبرانہ مشن کی صداقت کا مستند اعلان ہے۔ کشتی نوح کا ظہور انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ— اے لوگو، محاسبہ کا وقت بہت قریب آ چکا۔ خدا کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کرو، اس سے پہلے کہ تم کو خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے کھڑا کر دیا جائے۔ کشتی نوح کا ظہور سادہ طور پر صرف آرکیا لوجی (archaeology) کا ایک آئٹم نہیں ہے، وہ خدا کے تخلیقی پلان کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ کشتی نوح علامتی طور پر بتاتی ہے کہ پیدا کرنے والے نے انسان کو کس مقصد کے تحت پیدا کیا ہے، اور اس مقصد کے تحت آخر کار اس کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ ہونے والا ہے۔
خلاصہ کلام
انسان کی تاریخ حضرت آدم سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد ایک لمبا دور ہے جب کہ خدا کے منتخب بندے اٹھے۔ انھوں نے پیغمبر کی حیثیت سے لوگوں کو بتایا کہ تخلیق کے بارے میں خالق کا نقشہ کیا ہے۔ انسان کا خالق انسان سے کیا چاہتا ہے اور آخر کار انسان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ دعوت یا اعلان کا یہ کام لمبی مدت تک جاری رہا۔
اس کے بعد دوسرا دور وہ ہے جس کو انتباہ (alarm) کا دور کہا جا سکتا ہے، یعنی آنے والے وقت سے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues