Follow one and respect all.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
کسی بھی شخص یا گروہ کو یہ حق نہیں کہ جو فیصلہ آخرت میں خدا کی عدالت میں ہونے والا ہے، اس کا فیصلہ وہ اسی دنیا میں خدا کی طرف سے کر دے۔
وحدت ادیان کو ماننے والے اپنے نظریے کی تائید میں ایک بات یہ کہتے ہیں کہ مذہب کی اصل اطاعت ہے، نہ کہ کسی مذہبی گروہ سے وابستگی۔ یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اطاعت کا ماڈل کیا ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں کر سکتا کہ مذہبی کتاب سے لفظ اطاعت لے اور اس کا مفہوم خود اپنے ذہن سے متعین کرے۔ اس قسم کا استدلال ایک غیر سنجیدہ فعل ہے، وہ کوئی علمی استدلال نہیں۔ اس سلسلے میں جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، قرآن میں بلاشبہ اصل اہمیت اطاعت کو دی گئی ہے، لیکن اسی کے ساتھ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اطاعت کا ماڈل کیا ہے۔ یہ ماڈل اللہ کا رسول ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سنت کی شکل میں رسول کی زندگی کا جو نمونہ (model) مستند طور پر موجود ہے، وہی نمونہ ہمیشہ کے لیے اطاعت کا واحد ماڈل رہے گا۔ کسی کو یہ حق نہ ہوگا کہ وہ قرآن سے لفظ اطاعت لے اور اس کا عملی نمونہ بطور خود وضع کرے۔
قرآن میں دوسرے رسولوں کو بھی نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے (6:90)۔ لیکن یہ خود قرآن کے معنی میں ہے، نہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اپنے وضع کردہ معنی میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جن رسولوں کے نام آئے ہیں، اور اُن کے جو نمونے خود قرآن میں مذکور ہیں، وہی مستند نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسرے پیغمبروں کی صرف وہی بات مستند طور پر قابل اختیار ہوگی جو قرآن کی تعلیمات سے مطابقت رکھنے والی ہو۔
حیدر آباد میں صدر اسلامی مرکز کا تلگو ترجمہ قرآن حسب ذیل پتے پر دستیاب ہے : Top Publishers, Hyd. #8-1-363/34, Aditya Nagar Colony Tolichowki, Hyderabad-500008 (A.P.)
Ph: 09246294664, E-Mail: aijazadil19@yahoo.com یہ ترجمہ گڈورڈ بکس (نئی دہلی) میں بھی دستیاب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues