Follow one and respect all.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
اس کی ایک مثال مہاتما گاندھی کی ہے۔ وہ اس مذہبی اصول کے زبردست داعی تھے کہ رام اور رحیم ایک ہیں۔ ان کے آشرم میں ہر صبح کو یہی گیت گایا جاتا تھا۔ لیکن 30 جنوری 1948 کو جب ایک تشدد پسند آدمی نے ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تو آخر وقت میں ان کی زبان سے جو کلمہ نکلا، وہ ’’ہے رام‘‘ تھا، نہ کہ ہے رام، ہے رحیم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اگرچہ کہنے کے لیے یہ کہتے تھے کہ رام اور رحیم ایک ہیں، لیکن وہ جس یقین پر کھڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھا جو آخر وقت میں ان کی زبان سے نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدت ادیان کا تصور دین کی نفی ہے۔ انسان کو دین کی ضرورت کس لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے، ایک متلاشی حق حیوان ہے۔ انسان کی یہ فطرت صرف اُس وقت ایڈریس ہوسکتی ہے، جب کہ وہ ایک دین کو واحد سچائی کے طور پر دریافت کر سکے۔ اس سے کم تر درجے کا کوئی عقیدہ انسان کی فطرت کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ اس ضمن میں یہ بحث غیر متعلق ہے کہ کسی کا یہ سمجھنا کہ اس نے جس سچائی کو دریافت کیا ہے، وہی سچائی ہے اور دوسری کوئی سچائی نہیں، اس سے دوسرے کے بارے میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ یہ اعتراض بلاشبہ سچائی کی تضییر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی جب کسی شخص کو حاصل ہوتی ہے تو وہ اْس کو ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر کر دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص سچائی کو پانے کا دعویٰ کرے اور اسی کے ساتھ وہ دوسروں کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا ہو تو ایسا شخص گویا یہ اعلان کر رہا ہے کہ میں نے سچائی کو نہیں پایا، میں کسی اور چیز پر کھڑا ہوا ہوں، نہ کہ سچائی پر۔
اسی طرح، وحدت ادیان کے وکیل یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ وحدت ادیان کو نہیں مانتے، وہ یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ نجات (salvation) صرف اْن کے لیے ہے، دوسرے کے لیے نجات نہیں۔ یہ بات سرتا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نجات تمام تر خدا کے دائرہ (domain) کی چیز ہے۔ نجات کا فیصلہ کرنے والا صرف خدا ہے، کوئی بھی انسان اس معاملے میں سرے سے فیصلہ کرنے کا مطلق کوئی حق نہیں رکھتا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جو شخص یا گروہ یہ سمجھ لے کہ ہم نجات یافتہ ہیں اور دوسرے لوگ نجات یافتہ نہیں، ایسے لوگ خود اپنے بارے میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ خود باطل پر ہیں۔ کیوں کہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues