Al-Risala · October 2013 · page

تاریخ کاربانی سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳

تکمیل بعد کے دور میں بھی ممکن ہے، لیکن فاؤنڈیشن پیریڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلی نسل میں اپنی تکمیل تک پہنچ جائے۔

انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے پہلی نسل میں فاؤنڈیشن پیریڈ کی تکمیل اس عالم اسباب میں کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ یہ صرف اللہ کے لیے ممکن تھا اور اللہ نے خصوصی مداخلت کر کے ایسے حالات پیدا کیے کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے یہ ممکن ہو جائے کہ وہ پہلی نسل میں اس انقلاب کو مکمل کر سکیں۔ یہ ایک ایسا استثنائی واقعہ تھا کہ پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔ مورخین، اسلامی انقلاب کے اس استثنائی پہلو کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن وہ اس کی توجیہہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مورخین مادی اسباب کی روشنی میں واقعات کی توجیہہ کرتے ہیں، جب کہ یہ واقعہ خدا کی برتر مداخلت کا نتیجہ تھا اور خدا کی برتر مداخلت ایک ایسا عامل (factor) ہے جس سے مورخین شعوری طور پر واقف نہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ کو جو انقلاب لانا مطلوب تھا، اس کو قرآن میں اتمام نور (61:8) کہا گیا ہے۔ ضروری تھا کہ یہ واقعہ پہلی نسل(first generation) کے اندر مکمل ہو جائے۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بعد کی نسلوں میں زوال شروع ہو جاتا ہے اور زوال یافتہ افراد اتمام نور کا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصی منصوبے کے تحت ایک محدود مدت میں بہت سے انتظامات کیے، تاکہ پہلی نسل میں انقلاب کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے مختلف تدبیریں کی گئیں۔ مثلاً کعبہ کو تمام عرب قبائل کے بتوں کا مرکز بنا دیا گیا، تا کہ تمام قبائل کے افراد مکہ میں حاصل ہو جائیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (570ء) میں یمن کے حاکم ابرہہ نے ہاتھیوں کی فوج کے ذریعے مکہ پر حملہ کیا تھا، تا کہ کعبہ کو ڈھادیا جائے۔ اگر ابرہہ کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو کعبہ کا وجود مٹ جاتا اور پیغمبر اسلام کو یہ موقع حاصل نہ ہوتا کہ وہ مکہ میں تمام عرب قبائل کے افراد کو یکجا طور پر پاسکیں۔ اُس زمانے میں قبیلہ قریش کو پورے عرب کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues

Printed page