تاریخِ اسلام: ایک مطالعہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
ذہنی قیادت (intellectual leadership) کا مقام حاصل تھا۔ مکہ میں ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ وہاں کے تمام اعلیٰ ذہن پیغمبرِ اسلام کے ساتھی بن گئے۔ پھر مدینہ کے دونوں قبائل (اوس وخزرج) کے درمیان خوں ریز جنگ ہوئی۔ اس کے نتیجے میں دونوں قبائل بے حد کمزور ہو گئے۔ اس طرح پیغمبرِ اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ دس سال کے اندر پورے مدینے کو اسلام کے فولڈ میں لاسکیں۔ تمام قبائل کے بتوں کا مرکز بن جانے کی بنا پر عرب کے قبائل کعبہ کو پورے عرب کا مذہبی اور سیاسی مرکز سمجھتے تھے۔ چناں چہ جب مکہ فتح ہوا تو نہایت تیزی سے تمام عرب قبائل نے پیغمبرِ اسلام کی قیادت کو قبول کر لیا۔ اسی طرح اُس زمانے میں عرب کی سرحدوں پر ایک بڑا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی سورہ الروم (30) کے آغاز میں موجود ہے۔ وہ یہ کہ اُس زمانے میں عرب کی سرحدوں پر دو بڑے ایمپائر قائم تھے۔ ایک، ساسانی ایمپائر اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر۔ عین اُس زمانے میں دونوں کے درمیان فوجی ٹکراؤ ہوا۔ پہلے ساسانی ایمپائر نے رومی ایمپائر کو تباہ کیا۔ اس کے بعد رومی بادشاہ نے اپنی طاقت کو دوبارہ مجتمع کر کے ساسانی ایمپائر پر حملہ کیا اور اس کو تباہ کر دیا۔ چناں چہ دونوں ایمپائر بہت زیادہ کمزور ہو گئے۔ اس طرح اصحابِ رسول کو یہ موقع مل گیا کہ وہ نہایت آسانی سے ایشیا اور افریقہ کے درمیان پھیلے ہوئے اس پورے علاقے کو اسلامی علاقے میں شامل کر سکیں۔
تاریخِ اسلام: ایک مطالعہ
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کی مسلسل جدوجہد سے وہاں ایک ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی کے نصف اول میں ایک انقلاب آیا۔ مورخین اعتراف کرتے ہیں کہ یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب تھا۔ مثلاً امریکا کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے 1978 میں شائع شدہ اپنی کتاب (100 The) میں لکھا ہے کہ محمد تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی:
Muhammad was the only man in history who was supremely successful on both, the religious and secular levels.
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues