عقیدہ خدا اور سائنس
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
کائنات کی جنس، ذہن (mind-stuff) ہے:
Molecular biology has conclusively proved that the “matter” of organic life, our very flesh, really is mind-stuff. عقیدہ خدا اور سائنس کے معاملے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مذہب میں جس خدا کو بطور عقیدہ پیش کیا گیا تھا، وہ اگرچہ سائنس کا براہ راست موضوع نہیں، لیکن سائنس کی دریافتیں بالواسطہ طور پر عقیدہ خدا کی علمی تصدیق (affirmation) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنس نے خدا کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ سائنس نے عقیدہ خدا کے ثبوت کا ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔ سائنس کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں ایک چیز مسنگ لنک (missing link) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ ماڈل فعل (action) کو بتاتا تھا، مگر وہ فاعل (actor) کو نہیں بتاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں، قرآن کائنات کا جو ماڈل دے رہا ہے، اس میں فعل اور فاعل دونوں موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن میں سبب (cause) کے ساتھ مسبب (causative factor) کو بھی بتایا گیا ہے۔ سائنس جب فعل (ذہانت) کی تصدیق کر رہی ہے تو منطقی طور پر اس کا جواز نہیں کہ وہ فاعل (ذہن) کی تصدیق نہ کرے۔ خدا کا وجود البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگرچہ ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا تھا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہو گیا۔ اپنی وفات سے ایک سال پہلے 3 جنوری 1954 کو اس نے ایک اسرائیلی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind) کو جرمن زبان میں ایک خط لکھا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ تھا کہ ۔ خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیدا وار ہے:
The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses. آئن اسٹائن نے جس چیز کو ’انسانی کمزوری‘ بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلیٰ خصوصیت ہے۔ اس خصوصی کو درست طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues