عقیدہ خدا اور سائنس
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
تو جیہہ طلب حیوان (explanation-seeking animal) ہے۔ انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہہ تلاش کرتا ہے اور پھر وہ بڑی بڑی ترقیوں تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اندر اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو انسانی تہذیب (human civilization) پوری کی پوری غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی رہتی۔ خود آئن اسٹائن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری 30 سال کے دوران وہ ایک سوال کا سائنسی جواب پانے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ سوال آئن اسٹائن کے الفاظ میں، یونی فائنڈ فیلڈ تھیوری (unified field theory) کی دریافت ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ سوال اتنا زیادہ اہم ہے کہ آج وہ تمام نظریاتی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب اس سوال کو عام طور پر تھیوری آف ایوری تھنگ (Theory of Everything) کہا جاتا ہے۔ یہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کیا ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا ریاضیاتی فارمولا دریافت کرنا ہے جو تمام کائناتی مظاہر کی سائنسی توجیہہ کر سکے۔ تھیوری آف ایوری تھنگ کا مطلب ہے: Theory that explains everything. ایک سائنسی ادارہ (European Organization for Nuclear Research)
کے تحت سوئزر لینڈ میں ایک پروجیکٹ قائم کیا گیا۔ اس کا نام یہ تھا— لارج ہیڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider)— یہ پروجیکٹ 1998 میں قائم کیا گیا۔ اس پروجیکٹ پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ اس میں دنیا کے ایک سو ملک اور دس ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں کا تعاون شامل تھا۔ اگرچہ یہ پروجیکٹ کامیاب نہ ہوسکا، تاہم اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کو دریافت کیا جائے۔
’تھیوری آف ایوری تھنگ‘، یا زیادہ درست طور پر، یکسپینیشن آف ایوری تھنگ کی تلاش پر تقریباً 90 سال گزر چکے ہیں، مگر اس معاملے میں سائنس دانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مظاہر کائنات کی تو جیہہ خدا کے وجود کو مان کر حاصل ہوتی ہے۔ کوئی ریاضیاتی فارمولا کبھی اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues