اپنی صلاحیتوں کا کم تر استعمال
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
اپنی صلاحیتوں کا کم تر استعمال
دینا اپل (Deana Uppal) انڈیا کی ایک سکھ فیملی میں پیدا ہوئیں۔ اب وہ انگلینڈ میں رہتی ہیں۔ حال میں اُن کو مس انڈیا۔ یو کے (Miss India-UK) کا ٹائٹل ملا ہے۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور تین گھریلو خادموں (housemates) کے ساتھ ایک مکان میں رہتی ہیں۔ انھوں نے اپنے نظریہ حیات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ مجھ کو سب سے زیادہ محبت صرف ایک چیز سے ہے اور وہ مال ہے:
The greatest love of my life is money.
مذکورہ خاتون نے جو بات کھلے لفظوں میں کہہ دی، وہ بات تقریباً ہر آدمی کے دل میں موجود ہوتی ہے، اگر چہ وہ زبان سے اس کا اظہار نہ کرے، خاص طور پر موجودہ کنزیومر ازم (consumerism) کے عہد میں مال ہی لوگوں کے لیے سب کچھ بن گیا ہے۔
میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملا ہوں جنھوں نے مال کے حصول کو اپنا نشانہ بنایا اور بہت زیادہ دولت کمائی، مگر جب میں اس قسم کے لوگوں سے بات کرتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے پاس مادی موضوعات پر کہنے کے لیے تو بہت کچھ ہے، لیکن فکری موضوعات اور روحانی موضوعات پر وہ نہ کچھ بول سکتے اور نہ کچھ سمجھ سکتے۔ ایسے تمام لوگ میرے نزدیک صرف اکتسابی حیوان (earning animal) بن کر رہ جاتے ہیں۔
خالق نے انسان کو جو دماغ (mind) دیا ہے، وہ غیر معمولی فکری امکانات (intellectual potentials) رکھتا ہے، جن کو انفو لڈ (unfold) کرنا بلاشبہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے، مگر آج کل کی مادی دنیا میں یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو لوگوں کی زندگیوں سے حذف ہوگئی ہے۔ ایک لفظ میں، یہ کہ آج کی دنیا میں ہر آدمی کا کیس اپنے کم تر استعمال (underutilization) کا ایک کیس بنا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues