عقیدہ خدا اور سائنس
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
جواب نہیں بن سکتا۔ ریاضیاتی فارمولے میں اِس سوال کا جواب تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پیاس کو بجھانے کے لیے پانی کے سوا کسی اور چیز کو اس کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرنا۔ سائنس اور عقیدہ خدا 1927 میں بیلجیم کے ایک سائنس داں جار جز لیمیٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس کی حیثیت ایک مسلمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ ان لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جوئیل پرائَمیک (Joel Primack) نے کہا تھا کہ یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:
The ripples are no less than the handwriting of God. (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ”عظمتِ اسلام“، صفحہ 33) جارج اسموٹ 1945 میں پیدا ہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو ’کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر‘ کے لیے کام کرنے پر دیا گیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہر دار سطحیں پائی جاتی ہیں ۔ یہ بگ بینگ کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا تھا— یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے: George Fitzgerald Smoot III (born February 20,1945) is an American astrophysicist, cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was "like seeing the face of God". (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000, 204 pages)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues