شکایت بے فائدہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۳
شکایت بے فائدہ
عام طور پر لوگ دوسروں کی غلطیاں بتانے کے ماہر ہوتے ہیں، مومن وہ ہے جو خود اپنی غلطیوں کو جاننے والا ہو۔ لوگ دوسروں کے ظلم کا انکشاف کرنے کو کام سمجھتے ہیں، مومن وہ ہے جو خود اپنی زیادتیوں کو جانے اور ان کی اصلاح کی تدبیر کرے۔
عام طور پر لوگ دوسروں کے خلاف تقریر اور تحریر کے ہنگامے برپا کرتے ہیں، مومن وہ ہے جو خود اپنے محاسبہ (introspection) میں مشغول ہو۔ لوگ دوسروں کے خلاف جھنڈا اٹھاتے ہیں، مومن وہ ہے جو خود اپنی ذات کے خلاف جھنڈا اٹھائے۔
اس اصول کا تعلق فرد سے بھی ہے اور قوم سے بھی۔ اس دنیا میں ایک فرد کی کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کو دریافت کرے اور قوم کی کامیابی کا راز بھی یہی۔ فرد کسی قوم کی اکائی (unit) ہوتا ہے اور قوم افراد کے مجموعے سے بنتی ہے، اس بنا پر فرد اور قوم دونوں کے لیے کامیابی اور ناکامی کا اصول بھی ایک ہے۔
اس دنیا کو بنانے والے نے اس دنیا کو چیلنج کے اصول پر بنایا ہے۔ یہاں ہر لمحہ چیلنج اور مسابقت (competition) کا عمل جاری رہتا ہے۔ ایسی حالت میں کسی دوسرے کی شکایت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شکایت کرنے والا چیلنج کا جواب دینے میں نا کام رہا، شکایت کرنے والا حالات کو سمجھ کر دانشی مندانہ انداز میں اپنی منصوبہ بندی نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکایت اور احتجاج خود اپنی ناکامی کا اعلان ہے، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کی موجودگی کا اعلان۔
لوگ دوسروں کے خلاف شکایتوں کا دفتر تیار کرتے ہیں، حالاں کہ انھیں خود اپنی کوتاہیوں کا رجسٹر تیار کرنا چاہئے۔ لوگ دوسروں کی سازشوں کا انکشاف کرنے میں مشغول ہیں، حالاں کہ انھیں خود اپنی بے دانش کا انکشاف کرنا چاہئے۔ لوگ خارجی دنیا میں اپنے دشمن کی نشان دہی کر رہے ہیں، حالاں کہ انھیں خود اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن کی نشان دہی کرنا چاہئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2013 All issues