Al-Risala · November 2013 · page

تعاہد کیا ہے

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

تعاہد کیا ہے

قرآن کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: تعاهدوا القرآن، فو الذي نفسي بيده لهو أشد تفصيًا من الإبل في عقلها (صحيح البخاري، رقم الحديث: 5033) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قرآن کی حفاظت کرو، کیوں کہ قرآن اُس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جانے والا ہے جس طرح اونٹ اپنی رسی سے چھوٹ کر نکل جاتا ہے۔

اس حدیث میں قرآن کی حفاظت (تعاہد) سے مراد اس کی لفظی حفاظت نہیں ہے، بلکہ اس کی معنوی حفاظت ہے۔ ’’تعاہد‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ تم قرآن کو مسلسل طور پر اپنی سوچ کا مرکز بنائے رہو، تمھارے اندر قرآن رخی تفکیر (Quran-oriented thinking) پیدا ہوجائے، تم ہمیشہ قرآن میں نئے نئے معانی تلاش کرتے رہو، تم قرآن کو مسلسل طور پر اپنے ذہن کا حصہ (intellectual part) بنالو۔ قرآن کے معانی، بہ الفاظ دیگر، قرآنی طرزِ فکر، ایک ایسی چیز ہے جو صرف اُس وقت آدمی کے ذہن کا حصہ بنتا ہے جب کہ آدمی اس مسلسل طور پر سوچے، جب کہ وہ اس کے تفکیری عمل (thinking process) کا مستقل جز بنا ہوا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قرآن بہت جلد فراموشی کے خانے میں چلا جائے گا۔ وہ آدمی کے زندہ حافظہ (living memory) میں باقی نہ رہے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زندگی میں آدمی ہر لمحہ مسائل دنیا سے دوچار رہتا ہے۔ طرح طرح کے دنیوی تقاضے ہر لمحہ آدمی کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں۔ قرآن مکمل طور پر ایک کتاب آخرت ہے، جب کہ انسان مکمل طور پر ایک دنیوی مخلوق ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث رسول میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس صورتِ حال میں کسی مومن کے لیے صاحبِ قرآن بننے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ وہ اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking) کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ ایک غیر قرآنی دنیا میں قرآنی ذہن کے ساتھ رہ سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page