دورِ جدید میں سیرت نگاری
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
دورِ جدید میں سیرت نگاری
موجودہ زمانے میں مسلم اہلِ قلم کے درمیان ایک موضوع بہت مقبول ہوا ہے۔ اس موضوع کو عام طور پر ’’دورِ جدید میں سیرت نگاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ مگر اس موضوع پر جو کتابیں چھپی ہیں، اُن کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے مصنفین اس بات سے بے خبر ہیں کہ دورِ جدید میں سیرت نگاری کا مطلب کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل موضوع سے ان کتابوں کا کوئی تعلق نہیں۔
اس موضوع پر شائع شدہ کتابوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اُن کے لکھنے والوں نے کچھ مغربی مصنفین کو اسلام کا دشمن فرض کر لیا اور یہ سمجھا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ’’مسخ‘‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مفروضے کے تحت انھوں نے بطور خود ان ’’اسلام دشمنوں‘‘ کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اسی جوابی سیرت نگاری کو وہ بطور خود ’’دورِ جدید میں سیرت نگاری‘‘ سمجھتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک بالکل نیا زمانہ ہے۔ پچھلے دور کو اگر روایتی دور کہا جائے تو موجودہ دور کو سائنسی دور کہا جائے گا۔ اب سیرتِ رسول کے اعتبار سے، یہ ضرورت ہے کہ سیرت کو اس طرح لکھا جائے کہ وہ دورِ جدید سے پوری طرح متعلق (relevant) نظر آئے۔ موجودہ زمانے کی اصل ضرورت سیرتِ رسول کا یہی ریلیونس (relevance) ثابت کرنا ہے، نہ کہ مفروضہ مخالفین اسلام کا جواب دینا۔ دورِ جدید میں سیرت نگاری ایک اجتہادی موضوع ہے، وہ کوئی روایتی یا تقلیدی موضوع نہیں۔ اس کام کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف، جدید ذہن کا مطالعہ خالص غیر جانب دارانہ انداز میں کیا جائے اور دوسری طرف، پیغمبر اسلام کی سیرت کو گہرے مطالعے کے ذریعے دوبارہ سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ راقم الحروف کے مطالعے کے مطابق، مغربی مصنفین، اسلام یا پیغمبر اسلام کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ اُن کا طریق مطالعہ (method of study) مختلف ہے۔ مسلمان اگر سیرت کا مطالعہ خوش عقیدگی کے ذہن کے تحت کرتے ہیں تو مغربی مصنفین اس کا مطالعہ موضوعی (objective) انداز میں کرتے ہیں۔ اسی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان اس معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues