Al-Risala · November 2013 · page

مغرب کا کیس

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

مغرب کا کیس

ڈاکٹر صہیب حسن (لندن) کا ایک مضمون ایک عرب شیخ صالح الحصین (وفات: 2013) کے بارے میں چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے مغربی تہذیب یا مغرب کے بارے میں شیخ صالح الحصین کا نقطہ نظر بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ــ اگر ایک مسلمان کو اہل مغرب پر تنقید کرنا ہے تو وہ صرف اُن کے عیوب پر تنقید کرے۔ اہل مغرب کی خوبیوں کا نہ صرف اعتراف کرنا چاہئے، بلکہ اس میں ہمیں اُن سے مسابقت کرنا چاہئے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اسلام میں عدل ہر قیمت پر مطلوب ہے۔ (ماہ نامہ صراطِ مستقیم ، ستمبر 2013، صفحہ 25، برمنگھم ، لندن)

عرب شیخ کے اس ملفوظ میں غالباً اہل مغرب کی اخلاقی خوبیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مسلمانوں میں اور بھی ایسے کئی لوگ ہیں جو انفرادی سطح پر اہل مغرب کی اخلاقی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کا اعتراف ایک کم تر اعتراف ہے۔ اہل مغرب کی دوسری اس سے زیادہ بڑی دین ہے جس کو غالباً مسلم علما نہ جانتے ہیں اور نہ وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ اہل مغرب کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ دینِ اسلام کے لیے مؤید (supporter) کی حیثیت رکھتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ اس دین کی تائید سیکولر لوگوں کے ذریعے بھی کرے گا۔ تائید دین کا یہ کام سب سے زیادہ اہل مغرب کے ذریعے انجام پایا ہے۔ حدیث میں تائید دین کے جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، بلاشبہ اہل مغرب سب سے زیادہ اس کے مصداق ہیں۔ اہل مغرب نے پہلی بار فطرت (nature) میں چھپی ہوئی اُن حقیقتوں کو دریافت کیا جو اعلیٰ معرفت کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ اہل مغرب کی سائنسی دریافتوں نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ اسلام کے نظریات کو خالص علم انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بنایا جا سکے۔ یہ اہل مغرب تھے جو دنیا میں پہلی بار کامل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور لائے۔ ماڈرن کمیونکیشن غیر مشترک طور پر اہل مغرب کا عطیہ ہے، جس نے اسلام کی عالمی اشاعت کو ممکن بنا دیا ہے، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page