Al-Risala · November 2013 · page

ایک ابدی اصول

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

یہ لشکر جب سفر کرتے ہوئے مدینہ کی سرحد پر پہنچا تو اس وقت تک خندق کھودی جا چکی تھی۔ اہل مکہ کا یہ لشکر اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھا۔ قدیم زمانے میں بظاہر اُن کے لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ خندق کو پار کر کے مدینہ کے اندر داخل ہو جائیں۔ چناں چہ جب وہ مدینہ کی سرحد پر پہنچے اور خندق کو دیکھا تو انھوں نے کہا: واللہ إن هذه لمكيدة ما كانت العرب تكيدها (بخدا، یہ ایک ایسی تدبیر ہے جس تدبیر سے اہل عرب باخبر نہ تھے)۔

یہ خندق، دوسرے لفظوں میں، اُس وقت ایک حاجز (buffer) کی حیثیت رکھتی تھی۔ وہ ایک ایسی تدبیر تھی جس نے اہل اسلام اور ان کے مخالفوں کے درمیان ایک ناقابل عبور آڑ قائم کر دی تھی۔ چناں چہ نتیجہ یہ ہوا کہ مخالفین کا لشکر مدینہ کے باہر تقریباً ایک مہینہ تک پڑاؤ ڈالے رہا۔ وہ اپنے مقام سے مسلمانوں کو آواز دیتے تھے کہ تم مدینہ سے باہر آؤ، مگر مسلمان باہر نہیں آئے۔ آخر کار مخالفین کا یہ پورا لشکر مایوس ہو کر واپس چلا گیا۔

ایک ابدی اصول

خندق کا یہ واقعہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، وہ زندگی کا ایک ابدی اصول ہے۔ انفرادی زندگی کا بھی اور اجتماعی زندگی کا بھی۔ وہ اصول یہ ہے کہ اگر کوئی فرد یا گروہ تمھارا مخالف بن جائے تو اس سے ٹکراؤ نہ کرو، بلکہ ٹکراؤ کے بجائے تدبیر کا راستہ اختیار کرو۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ اپنے اور حریف کے درمیان ایک آڑ (buffer) قائم کر دو۔ اس طرح پیش آمدہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ جس مسئلے کو تم ٹکرا کر ختم کرنا چاہتے ہو، وہ مسئلہ ٹکراؤ کے بغیر خود حالات کے نتیجے میں ختم ہو جائے گا، جیسا کہ خود غزوۂ خندق کے موقع پر ہوا۔

اس حاجز یا آڑ کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ قدیم زمانے میں حاجز قائم کرنے کے لیے دیوار بنانا یا خندق کھودنا پڑتا تھا۔ موجودہ زمانے میں نئے وسائل کی دریافت نے اس تدبیر کی نئی نئی صورتیں پیدا کی ہیں۔ آدمی اگر صورتِ حال پر مشتعل ہونے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو آسانی کے ساتھ وہ موقع کے لحاظ سے ایک کامیاب تدبیر دریافت کر سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page