Al-Risala · November 2013 · page

اجتہاد کی اہمیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

پیش آئے۔ ایک واقعہ بحر روم (Mediterranean Sea) میں پیش آیا، اور دوسرا واقعہ میسور (انڈیا) میں۔ ایک طرف، یہ ہوا کہ یورپی حکومتوں نے 1799 میں ترکی کے طاقت ور بحری بیڑا (naval fleet) پر حملہ کر کے اس کو بحر روم میں تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ اتنا بڑا تھا کہ اُس وقت کے انگریز جنرل نے انتہائی خوشی کے عالم میں کہا تھا کہ ــــ آج انڈیا ہمارا ہے (Today India is ours)۔

اِس کے بعد رفتہ رفتہ تمام مسلم ملکوں میں مغربی طاقتوں کا دبدبہ قائم ہو گیا۔ عین اُسی زمانے میں مسلم دنیا میں جوابی تحریکیں شروع ہوئیں۔ عرب سے عجم تک ہر جگہ مسلم رہنما حرکت میں آگئے۔ ان تمام مسلم رہنماؤں کا مشترک نشانہ صرف ایک تھا، اور وہ تھا مسلمانوں کی عظمت رفتہ (past glory) کو واپس لانا۔ یہ جد و جہد انیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی۔ اب وہ اکیسویں صدی میں پہنچ چکی ہے، لیکن نتیجہ (result) کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلم رہنماؤں کی کوشش نے صرف مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کیا، وہ کسی بھی درجے میں اپنے مطلوب نشانے کو پورا نہ کر سکے۔ دورِ جدید میں مسلمانوں کے لیے جو مسئلہ پیدا ہوا، اس کے مقابلے میں کامیاب منصوبہ بندی کے لیے پہلی ضرورت یہ تھی کہ مسئلے کی نوعیت کو دریافت کیا جائے۔ مگر اس دور کے مسلم رہنما اس پہلو سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ اپنے روایتی ذہنی کے مطابق، انھوں نے اس مسئلے کو دشمن کے حملے کے مقابلے میں، دفاع کا مسئلہ سمجھا، حالاں کہ وہ بدلے ہوئے حالات میں نئے اجتہاد کا مسئلہ تھا۔ نوعیت مسئلے کی دریافت میں مسلم رہنماؤں کی ناکامی نے اُن کی جوابی کارروائی کو مکمل طور پر ایک غیر متعلق کارروائی کا درجہ دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو سوسال کی جان و مال کی عظیم قربانی کے باوجود نتیجہ (result) کے اعتبار سے، امت مسلمہ کو کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا۔

دور جدید میں جو اجتہاد درکار تھا، وہ بنیادی طور پر وہی تھا جس کو فرقان (8:29) کہا گیا ہے، یعنی ایک معاملے کو دوسرے معاملے سے الگ کرنا۔ امت مسلمہ کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے۔ یہی وہ کام ہے جس کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ امت مسلمہ اس کو ہر حال میں جاری رکھے۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو سیاسی اقتدار کہا جا سکتا ہے۔ دعوت الی اللہ، امت مسلمہ کا مشن ہے، اور سیاسی اقتدار،

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page