Al-Risala · November 2013 · page

اجتہاد کی اہمیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

امت مسلمہ کی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان جس بحران کا شکار ہو گئے تھے، اس کا واحد حل یہ تھا کہ مشن اور تاریخ کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے، مگر ہمارے رہنما بر وقت یہ کام نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امت مسلسل طور پر بحران کی حالت میں پڑی رہی۔ موجودہ زمانے میں بہت سے نئے امکانات پیدا ہوئے تھے۔ یہ امکانات یا مواقع اسلام کے مشن کے اعتبار سے بے حد مفید تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں پر سیاسی ذہن کا اتنا غلبہ تھا کہ وہ ان غیر سیاسی مواقع کو دیکھ نہ سکے۔ وہ دوسری قوموں سے بے فائدہ سیاسی لڑائی لڑتے رہے اور جدید مواقع کو دعوتی مشن کے لیے استعمال کرنے میں ناکام رہے۔

اس معاملے کی ایک متوازی مثال یہ ہے کہ عین اسی زمانے میں مسیحی چرچ بھی عین اسی قسم کے بحران میں مبتلا ہوا۔ مسیحی چرچ جس کا مرکز روم تھا، وہ قدیم زمانے میں تقریباً پورے یورپ میں ایک بے تاج بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس زمانے میں پوپ (pope) یورپ کا پولیٹکل ماسٹر بنا ہوا تھا۔ اس زمانے میں یورپ کے سائنس دانوں نے طبیعی دنیا میں نئی حقیقتیں دریافت کیں۔ یہ دریافتیں مسیحی طرز کے روایتی عقائد سے ٹکراتی تھیں۔ چناں چہ سائنس دانوں اور مسیحی چرچ کے درمیان شدید ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ اس تصادم کی تفصیل اس کتاب میں دیکھی جا سکتی ہے:

History of the Conflict Between Religion and Science by William Draper اس مسئلے میں مسیحی چرچ نے حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار کیا۔ وہ چرچ اور اسٹیٹ کی عملی علاحدگی پر راضی ہو گئے۔ مگر یہ علاحدگی سادہ طور پر مذہب اور سیاست کی علاحدگی کے ہم معنی نہ تھی، بلکہ وہ سیاسی محدودیت کے ہم معنی تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پوپ مسیحی ایمپائر کا رقبہ گھٹا کر اس پر راضی ہو گیا کہ اس کا دائرہ اختیار روم کے ایک چھوٹے رقبے تک محدود رہے، جس کو ویٹکن (Vatican) کہا جاتا ہے۔ ویٹیکن پورے معنوں میں ایک خود مختار ریاست ہے۔ اس کا اپنا آزادانہ نظام ہے۔ ہر ملک میں اس کے سفارت خانے قائم ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page