Al-Risala · November 2013 · page

مقامی دعوت سے عالمی دعوت تک

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

مکمل طور پر ناکام رہے۔ موجودہ زمانے میں خدا نے انتہائی اعلیٰ قسم کے دینی مواقع کھول دئے ہیں، لیکن مسلم رہنما، خواہ وہ عرب رہنما ہوں یا غیر عرب رہنما، سب کے سب اس معاملے میں بے خبر رہے۔ وہ خدا کی اسکیم کے خلاف کسی اور میدان میں زور آزمائی کرتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 200 سال سے بھی زیادہ مدت تک جان و مال کی قربانیاں دینے کے باوجود اُنھیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ خدا کا مقصود کیا ہے خدا کے نزدیک کرنے کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انسان کو خدا کے منصوبہ تخلیق سے باخبر کیا جائے۔ اِسی مقصد کے لیے خدا نے اپنے تمام رسول بھیجے، اور اسی مقصد کے لیے آخر میں قرآن بھیجا اور اس کے متن (text) کو مکمل طور پر محفوظ کر دیا۔ قرآن اس تخلیقی منصوبے کا ایک مستند بیان (authentic statement) ہے۔ اب ضرورت ہے کہ یہ خدائی بیان ہر دور کے انسانوں تک پہنچتا رہے۔ اِسی عمل کا نام دعوت الی اللہ ہے۔

مقامی دعوت سے عالمی دعوت تک

پچھلے زمانوں میں جن داعیوں نے دعوت الی اللہ کا کام کیا، ان کا کام مقامی دائرے تک محدود رہا۔ دعوت کا کام ہمیشہ وسائل کی مدد سے ہوتا ہے اور پچھلے زمانے میں عالمی وسائل نہ ہونے کی بنا پر زیادہ وسیع دائرہ میں کام نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انسانی آبادی پورے کرہ ارض پر پھیلی ہوئی تھی، لیکن پچھلے زمانے کے داعیوں کا دعوتی کام وسائل کے فقدان کی وجہ سے عملاً مقامی دائرے تک محدود رہا۔ تائید کا انتظام اللہ تعالیٰ نے عالم فطرت (nature) کے اندر بالقوہ (potential) طور پر ایسے امکانات رکھے تھے جن کو دریافت کر کے اہل ایمان عالمی دائرے میں اپنے دعوتی عمل کو انجام دے سکیں۔ یہ امکان بنیادی طور پر وہ تھا جس کو کمیونیکیشن (communication) کہا جاتا ہے۔ وہ تمام چیزیں جن کو موجودہ زمانے میں ماڈرن کمیونیکیشن (modern communication) کہا جاتا ہے، وہ فطرت کے امکانات کو دریافت کر کے ہی وجود میں آئے ہیں۔ پرنٹنگ پریس، تیز رفتار سواریاں اور

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page