Al-Risala · November 2013 · page

منصوبہ خداوندی

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

منصوبہ خداوندی

بارش کے موسم میں بارش ہو تو یہ اس بات کا ایک خاموش اعلان ہوتا ہے کہ کسان اٹھیں اور اپنے کھیتوں میں کام کر کے اُن میں بیج ڈالیں، تاکہ کھیتوں سے سرسبز و شاداب فصل اگے۔ لیکن کسان اگر ایسا کرے کہ وہ اپنے گھر سے نکل کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں وہ کوہ پیمائی (mountaineering) کرنے لگے۔ کوئی انسان اگر ایسا کرے تو کوششوں اور قربانیوں کے باوجود وہ کوئی نتیجہ حاصل نہ کر سکے گا، کیوں کہ وہ خالق کی مرضی کے خلاف چل رہا ہے۔

یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین کے معاملہ میں بھی یہی ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے امکانات کھولے جاتے ہیں۔ اہل ایمان کا کام ہوتا ہے کہ وہ ان امکانات کو پہچانیں اور اُن کو بھر پور طور پر استعمال (avail) کریں۔ اگر اہل ایمان ایسا کریں کہ اللہ نے امکانات تو کہیں اور کھولے ہوں، لیکن اہل ایمان کسی دوسرے محاذ پر کوشش شروع کر دیں۔ اہل ایمان اگر ایسی غلطی کریں تو خواہ وہ کتنی ہی قربانیاں دیں، مگر اس کا کوئی نتیجہ ہر گز بر آمد نہیں ہوگا۔ ایسے لوگ قرآن کے الفاظ میں، حبطت أعمالهم في الدنيا والآخرة کا مصداق قرار پائیں گے۔

اس دنیا میں کوئی بھی عمل صرف انسان کی کوشش سے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس دنیا میں کسی عمل کی کامیابی کی لازمی شرط یہ ہے کہ اس کو خدا کی تائید حاصل ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی عقل کا امتحان ہو رہا ہے۔ خدا کی طرف سے جب بھی کوئی امکان کھولا جاتا ہے تو وہ ہمیشہ ایک خاموش امکان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ کبھی آسمان سے آواز نہیں آتی، حتیٰ کہ جب اس دنیا میں خدا کا کوئی پیغمبر آتا ہے تو بلا شبہ وہ خدا کا ایک خصوصی منصوبہ ہوتا ہے، لیکن اُس وقت بھی آسمان سے یہ آواز نہیں آتی کہ اے لوگو، یہ خدا کا رسول ہے۔ اس کو سنو اور اس کا اتباع کرو۔ یہ ایک دریافت کا معاملہ ہے جو انسان کو اپنی عقل کے استعمال کے ذریعے خود کرنا پڑتا ہے۔

موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page