Al-Risala · November 2013 · page

اسلام کا انقلابی رول

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

مختلف حالات کے درمیان اس نے کیسا رسپانس دیا۔ اُس نے حالات کو اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے استعمال کیا یا منفی ردعمل میں اپنا وقت ضائع کر دیا۔

امتحانی صورتِ حال کے اس نتیجے کا تعلق افراد سے ہے۔ ہر فرد الگ الگ حالت امتحان میں ہے۔ ہر فرد الگ الگ اپنا ریکارڈ تیار کر رہا ہے۔ ہر فرد الگ الگ یہ بتا رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نرہیں- اسلامی انقلاب کا مقصد رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے جو انقلاب آیا اور آخر کار اس کے نتیجے میں دنیا کا نقشہ بدل گیا، وہ اسی لیے تھا کہ مذکورہ قسم کی حالت دنیا میں غیر منقطع طور پر جاری رہے۔ اسلامی انقلاب کا مقصد نہ کوئی ایمپائر قائم کرنا تھا اور نہ کوئی بہتر سیاسی یا سماجی نظام۔ اس انقلاب کا واحد مقصد یہ تھا کہ فرد کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کے مواقع لامحدود طور پر کھل جائیں۔ جو فرد یہ چاہے کہ اس کو حقیقت اعلیٰ کو دریافت کرنا ہے، اْس کو اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت کے طور پر ڈیولپ کرنا ہے، اْسی کے ساتھ اُس کو دعوت الی الخیر (3:104) کے مشن کو اپنی زندگی کا مشن بنانا ہے، جو فرد یا افراد ایسا چاہیں، اْن کے لیے ہر قسم کے مواقع پوری طرح کھلے ہیں۔

اسلامی انقلاب کا مقصد اصلا یہی تھا۔ اسلامی انقلاب کا مقصد یہ تھا کہ زمین پر عالمی مواقع کی ایک دنیا (world of universal opportunities) وجود میں آئے۔ اِس قسم کی ایک دنیا صرف لمبے عمل کے ذریعے بن سکتی تھی۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد تاریخ میں جو پراسس جاری ہوا تھا، وہ تقریباً ہزار سال تک اپنا کام کرتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔

عجیب بات ہے کہ اسلامی انقلاب کی اِس نوعیت کو نہ مسلم مفکرین نے سمجھا اور نہ غیر مسلم مفکرین نے۔ دونوں کے لیے اس کا مشترک سبب یہ تھا کہ وہ تاریخ کا مطالعہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں نہ کر سکے۔ وہ خود اپنے خود ساختہ ذہن کے تحت تاریخ کا مطالعہ کرتے رہے۔ اِس بنا پر دونوں گروہوں کا حال

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page