Al-Risala · November 2013 · page

دورِ آزادی

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

یہ ہوا کہ وہ اُس خدائی حکمت (divine wisdom) سے بے خبر رہے جو انسانی تاریخ کے درمیان مسلسل طور پر اور مؤثر طور پر جاری رہی۔

دورِ آزادی

اسلام کا ظہور تاریخ میں ایک انقلاب کا ظہور تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں کے ذریعے تاریخِ انسانی میں پہلی بار آزادی کا دور آیا۔ اس سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی سلطنت کا مستبدانہ نظام (despotism) قائم تھا۔ اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی تھیں کہ بظاہر اُن کو ختم کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول کی قربانیوں سے تاریخ میں ایک ایسا طاقت ور اس طرح جاری ہوا جس نے شخصی مطلق العنانی کے نظامِ حکومت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ قرآن میں اس انقلابی واقعے کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (24:55) یعنی ایسا لازماً ہونا ہے کہ دنیا سے دور خوف کا خاتمہ ہو اور دورِ امن ابدی طور پر دنیا میں آ جائے۔ حضرت عمر فاروق نے ایک عظیم سلطنت کے حکمراں کی حیثیت سے اپنے عہد خلافت میں اسی حقیقت کا اظہار کیا تھا، جب کہ انھوں نے ایک واقعے کے بعد مصر کے مسلم گورنر کو خطاب کرتے ہوئے کہا: یا عمرو، متی استعبدتم الناس وقد ولدتہم أمهاتهم أحرارا (سيرة عمر بن الخطاب، علي محمد الصلابي : 1/306) یعنی اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے اُن کو آزاد پیدا کیا تھا۔

یہ انقلابی عمل تاریخ میں جاری رہا، یہاں تک کہ وہ سفر کرتے ہوئے یورپ تک پہنچ گیا۔ گیارہ سو سال کے بعد فرانس کے جمہوری مفکر روسو (Rousseau) نے اپنی کتاب 'سوشل کنٹریکٹ' میں لکھا کہ انسان آزاد پیدا ہوا تھا، لیکن میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں : Man was born free, but I see him in chains. اسی انقلابی عمل (revolutionary process) کے بعد کے مرحلے میں 1789 میں فرانسیسی انقلاب (French Revolution) کا واقعہ ہوا۔ اس انقلابی عمل کی تکمیل 1948 میں ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page