Al-Risala · November 2013 · page

ایک دور کا خاتمہ، دوسرے دور کا آغاز

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

لیے اللہ تعالی نے رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا کہ ہر قیمت پر اس مصنوعی نظام کو ختم کرو، خواہ اس کے لیے تم کو جنگ کرناپڑے۔ رسول اور اصحاب رسول نے اس حکم خداوندی کی تعمیل کی، یہاں تک کہ اس جبری نظام کا خاتمہ ہو گیا۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے عبداللہ بن عمر کی ایک روایت کا مطالعہ مفید ہوگا۔ عبداللہ بن عمر (وفات: 73 ہجری) کے زمانے میں وہ جنگ پیش آئی جس کے قائد ایک طرف، عبداللہ بن زبیر تھے اور دوسری طرف، اموی حاکم حجاج بن یوسف الثقفی۔ یہ واقعہ تاریخ میں ’’فتنہ عبداللہ بن زبیر‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

عبداللہ بن عمر اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ دو مسلمان اُن کے پاس آئے اور اُن کو عار دلاتے ہوئے کہا کہ آپ اس جنگ میں شریک نہیں ہیں، حالاں کہ اللہ تعالی نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (8:29)۔ عبداللہ بن عمر نے کہا: قاتلنا حتى لم تكن فتنة، و كان الدين لله - وأنتم تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير اللہ (صحیح البخاري، رقم الحديث: 4513) یعنی ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا، اور دین اللہ کے لیے ہو گیا۔ اور تم چاہتے ہو کہ جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ دوبارہ واپس آجائے اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے۔

عبداللہ بن عمر کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر تھا۔ ہم نے لڑ کر اس مذہبی جبر کو ختم کر دیا۔ اب فطرت کے نظام کے مطابق، مذہب کے معاملے میں انسان کو آزادی حاصل ہوگئی، جب کہ تم لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے جنگ کر رہے ہو اور اس طرح دوبارہ ایک نئے قسم کا فتنہ برپا کر رہے ہو۔

ایک دور کا خاتمہ، دوسرے دور کا آغاز

اللہ نے انسان کو اس دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا ہے۔ امتحان کی اس مصلحت کی بنا پر اللہ نے انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ اس کو اس دنیا میں فریڈم آف چوائس (freedom of choice)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page