جنگ کی دو قسمیں
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۸
لفظی ترجمہ یہ ہے ۔ جب میری امت کے اندر تلوار داخل ہو جائے تو قیامت تک وہ اُس سے اٹھائی نہیں جائے گی۔ مذکورہ حدیثِ رسول کا یہ ترجمہ لفظی طور پر ایک صحیح ترجمہ ہے۔ لیکن صرف یہ ترجمہ، حدیث کی اصل معنویت کو ظاہر نہیں کرتا۔
بظاہر اس حدیث میں امت کے اندر تلوار کے اُس داخلے کا ذکر ہے جو عہد رسالت کے بعد پیش آئے گا۔ لیکن تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو امت کے اندر تلوار کا داخلہ خود زمانہ رسول میں پیش آ چکا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے ، غزوۂ بدر، غزوۂ حنین، غزوۂ خیبر کے مواقع پر امت محمدی نے تلوار اٹھائی، جب کہ ان چاروں مواقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم با حیات تھے۔ اس کے علاوہ، قرآن کی متعدد آیتوں میں خود زمانہ رسول میں قتال کا ذکر ہے۔ بظاہر یہ ایک تضاد کی صورت حال ہے۔ اس لیے ہمیں کوئی ایسا اصول دریافت کرنا پڑے گا جو اس ظاہری تضاد کو رفع کرنے والا ہو۔
جنگ کی دو قسمیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ پیش آئی، اس کی نوعیت کیا تھی، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) یعنی تم اُن سے قتال کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہو جائے۔
اس آیت میں’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قدیم زمانے میں اُس وقت کے سیاسی فلسفہ (political philosophy) کی بنا پر، ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر قائم تھا۔ اس کلچر نے قدیم زمانے میں پرامن دعوت (peaceful Dawah) کو عملاً ناممکن بنا دیا تھا۔ یہ تصور، خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھا، کیوں کہ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے تحت، ہر انسان کو فکر اور اظہارِ خیال کی کامل آزادی عطا کی ہے۔
مذہبی جبر پر مبنی مذکورہ سیاسی فلسفہ خدا کی دی ہوئی آزادی کو منسوخ کرنے کے ہم معنی تھا۔ خدا کو مطلوب تھا کہ مذہبی جبر کا یہ مصنوعی نظام ختم ہو اور مذہبی آزادی کا فطری نظام قائم ہو جائے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues