Al-Risala · November 2013 · page

قانونِ شریعت کا نفاذ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

اس روایت میں ثاب کا لفظ آیا ہے۔ ثاب یثوب کے معنی ہیں: حالت اصلی کی طرف لوٹنا۔ مشہور عالم لغت راغب الاصفہانی (وفات: 1108ء) نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: رجوع الشیٔ إلى حالته الأولى التي كان عليها (المفردات، صفحہ 83) یعنی کسی چیز کا اپنی اُس سابقہ حالت کی طرف لوٹنا جس پر وہ پہلے قائم تھی۔

اِسی بات کو اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا مطلب ہے ــــ حالتِ فطری کی طرف واپسی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر ماحول کے اثر سے وہ دھیرے دھیرے اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی کا نام بگاڑ ہے۔ صحیح معاشرہ قائم کرنے کا عمل، اسی بگاڑ کو درست کرنے سے شروع ہوتا ہے، یعنی فطرت سے انحراف کی حالت کو ختم کرنا اور دوبارہ لوگوں کو ان کی حالتِ فطری پر قائم کرنا۔ ایک لفظ میں اس عمل کو ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جا سکتا ہے۔

حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ ــــ انسان کی ڈی کنڈیشنگ کرکے اُس کو حالتِ فطری کی طرف واپس لاؤ۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بعد انسان کے اندر احکام کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی، اور نفاذِ شریعت کا کام بہ سہولت انجام پا سکے گا۔ گویا کہ پیغمبر اسلام کے طریقے کے مطابق، کسی سوسائٹی میں نفاذِ شریعت کے عمل کا آغاز، فکری تطہیر سے ہوتا ہے، نہ کہ قانون کے عملی نفاذ سے۔

موجودہ زمانے میں 57 مسلم ملک ہیں۔ ہر مسلم ملک میں مسلم رہنماؤں نے شریعت کے نفاذ کی تحریک چلائی، مگر لمبی جدوجہد کے باوجود کسی بھی ملک میں یہ تحریکیں اپنے مطلوب مقصد میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ ہر ملک میں ان تحریکوں نے صرف تشدد اور جبر کی روایتیں قائم کیں۔ اس اعتبار سے مسلم ملکوں کو دو گروپ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک قسم کے ملک وہ ہیں، جہاں حکم راں اور عوام کے درمیان پُرتشدد مقابلہ جاری ہے۔ دوسری قسم کے مسلم ملک وہ ہیں جہاں جبر کا نظام قائم ہو گیا ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جہاں حکم راں طبقے نے نفاذ شریعت کی تحریکوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page