Al-Risala · November 2013 · page

قانونِ شریعت کا نفاذ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

مقہور کر لیا اور جبر کے زور پر اپنی حکم رانی قائم کرلی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں حالتیں، اسلامی نقطہ نظر سے غیر مطلوب حالتیں ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت کے مطابق، مسلم ملکوں میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے کام کا آغاز غیر سیاسی میدان میں کرتے۔ وہ پرامن تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور ان کے کردار کو بدلتے۔

اس تعمیری عمل کے دوران وہ ملک کے سیاسی نظام کے معاملے میں اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کا طریقہ اختیار کرتے۔ وہ یہ پالیسی اختیار کرتے کہ سیاست اور حکومت کے معاملے کو جمہوری عمل (democratic process) کے حوالے کردیتے۔ سیاست کے معاملے میں وہ لوگوں کو موقع دیتے کہ پرامن الیکشن کے ذریعے وہ جس کو چاہیں منتخب کریں اور پھر یہ منتخب لوگ ملک کا سیاسی نظام چلائیں۔ مسلم رہنما اگر اس دو طرفہ حکمت کو اختیار کرتے، تو یقینی طور پر ایسا ہوتا کہ بتدریج ملک کے حالات بدل جاتے ۔ ان ملکوں میں پہلے ذہن اور کردار کے اعتبار سے انقلاب آتا، اور پھر دھیرے دھیرے سیاست اور حکومت کے میدان میں بھی انقلاب آجاتا۔ مگر حکمتِ نبوی کو اختیار نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم رہنما جو کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے، اُس کو تو وہ حاصل نہ کر سکے، البتہ انھوں نے مسلم سماج کے اندر بہت سے نئے نقصانات کا اضافہ کردیا۔

حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں مسلمانوں کو شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ حکم رانوں میں بگاڑ کے وقت اُن کا رویہ کیا ہونا چاہیے ۔ ان روایتوں میں شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے حکم رانوں میں تم خواہ کتنا ہی بگاڑ دیکھو، تم ہرگز اُن سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار مت کرو۔ اگر تم ضروری سمجھو، تو صرف تنہائی میں نصیحت پر اکتفا کرو، عملی ٹکراؤ یا حکم رانوں کو بدلنے کی تحریکیں ہرگز نہ چلاؤ۔

عدم ٹکراؤ کی اس پالیسی کا مطلب سرینڈر کرنا نہیں ہے۔ یہ دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ سیاسی بگاڑ کے حالات میں تمھارے عمل کا نقطہ آغاز کیا ہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں تمھارے عمل کا نقطہ آغاز یہ ہونا چاہیے کہ تم انتہائی حد تک پرامن رہتے ہوئے، غیر سیاسی دائرہ کار میں لوگوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page