Al-Risala · November 2013 · page

خود کشی کیوں

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳

خود کشی کیوں

بالی وڈ کی ایک ایکٹرس جیا خان نے 3 جون 2013 کو ممبئی میں خود کشی کر لی۔ اس وقت اس کی عمر 25 سال تھی ۔ وہ جو ہو کے ایک فلیٹ میں رہتی تھی ۔ وہاں کوئی سوسائڈ نوٹ (suicide note) نہیں پایا گیا۔ فلم ڈائرکٹر رام گوپال ورما نے بتایا کہ ضیا خان کو تین سال سے کوئی کام نہیں ملا تھا۔ اس نے رام گوپال ورما سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ اس کے قریب کا ہر آدمی اس کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ناکام ہے:

The last time I met her, Jiah told me that

everyone around her makes her feel like a failure. ضیا خان نے جو کہا، وہ خود کشی کے لیے کوئی عذر (excuse) نہیں ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ خود اپنے آپ کو دریافت کرے، نہ یہ کہ وہ اپنے آپ کو ویسا سمجھے جیسا کہ دوسرے لوگ اس کو بتا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا غیر ہمدرد (unsympathetic) لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس دنیا میں حقیقی معنوں میں کوئی شخص دوسرے کا خیر خواہ (well-isher) نہیں ہوتا، حقیقی معنوں میں کوئی شخص کسی کا اعتراف (acknowledgement) نہیں کرتا ۔ یہ کام آدمی کو خود کرنا ہے کہ وہ اپنے بے لاگ جائزہ سے اپنی قدر و قیمت کو متعین کرے ۔ وہ اپنے ذاتی یقین پر کھڑا ہو، نہ کہ دوسروں کے ماننے یا نہ ماننے پر۔

عقل مند آدمی وہ ہے جو دوسروں کی تعریف سے خوش نہ ہو اور دوسروں کی تنقید اُس کو غمگین نہ کرے ۔ دوسروں کی تعریف پر خوش ہونے والا آدمی اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (overestimation) میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح دوسروں کی تنقید پر غمگین ہونے والا آدمی اپنے بارے میں کم تر اندازہ (underestimation) کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور دونوں قسم کا مزاج بلا شبہہ آدمی کے لیے یکساں طور پر مہلک ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues

Printed page