کسی کی انا کو مت چھیڑیے
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۳
کسی کی انا کو مت چھیڑیے
ہر آدمی کی ایک انا ہوتی ہے۔ کوئی آدمی اُسی وقت تک معتدل (normal) رہتا ہے جب تک اس کی انا سوئی ہوئی ہو۔ جیسے ہی آپ اس کی انا کو چھیڑیں ، اس کا اعتدال ختم ہو جائے گا۔ اسی حقیقت کا اظہار ایک انگریزی مثل میں اس طرح کیا گیا ہے۔ ہر گز کسی کو فارگرانٹیڈ نہ لو: Never take someone for granted. ہر عورت اور مرد پیدائشی طور پر انا کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ انا (ego) ہر انسان کی شخصیت کا لازمی حصہ ہے، حتیٰ کہ ایسے افراد جو بظاہر متواضع (modest) دکھائی دیتے ہوں، وہ بھی اتنا ہی زیادہ انا کی نفسیات لیے ہوئے ہوتے ہیں جتنا کہ بظاہر غیر متواضع انسان۔ دونوں کے درمیان فرق صرف یہ ہے کہ پہلا شخص اُس وقت انانیت (egoism) کا کیس بنتا ہے جب کہ اس کی انا پر ضرب لگادی جائے، جب کہ دوسری قسم کا انسان ہر وقت کبر (arrogance) کی تصویر بنارہتا ہے۔ ایسی حالت میں سماج کے اندر عافیت کی زندگی گزارنے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ آپ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بے حد محتاط رہیں اور کبھی کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالیں جس سے دوسرے کی انا پر ضرب پڑتی ہو۔
یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ آدمی سماج کے اندر سب سے لڑکر نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت میں سماج کے اندر با عافیت زندگی گزارنے کی ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے ۔ دوسروں کے جذبات کی رعایت کرتے ہوئے اس سے معاملہ کرنا۔
اس معاملے میں آدمی کے پاس صرف دو میں سے ایک کا اختیار (choice) ہے، یا تو دوسروں سے لڑکراپنی زندگی کو غیر ضروری طور پر مشکل بنالینا، یا اپنے کو بے مسئلہ انسان (no-problem person) بنا کر دوسروں کے شر سے اپنے آپ کو بچالینا۔ جو آدمی اپنے آپ کو بے مسئلہ بنالے، وہ اس سے بچ جاتا ہے کہ دوسرے انسان اس کے لیے مسئلہ (problem) بنیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2013 All issues