Al-Risala · February 2013 · page

اسوۂ رسول

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

اسوۂ رسول

اسلامی تعلیم کے مطابق ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامل پیغمبر ہیں۔ آپ کی سیرت میں انسان کی زندگی کے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔ ایک انسان اپنی زندگی کے تمام معاملات میں پیغمبر اسلام سے مستند ربانی ہدایت حاصل کر سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام بلاشبہ ایک رول ماڈل (role model) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی کو قرآن میں اسوہ حسنہ (33:21) کہا گیا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کامل اسوہ بہ اعتبار فہرست (in terms of list) نہیں ہے، بلکہ وہ بہ اعتبار انطباق (in terms of application) ہے۔ یہ حقیقت ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ اس کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو (بطور عامل) یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے معاذ بن جبل سے پوچھا کہ جب تمھارے سامنے کوئی معاملہ آئے گا تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے اس کا فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ۔ انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ کی سنت میں اور اللہ کی کتاب میں بھی نہ پاؤ۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا (أجتهد رأئي ولا ألو)۔ رسول اللہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے رسول کے فرستادہ کو اُس چیز کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے۔ (سنن أبي داؤد، رقم الحديث: 3592) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ بن جبل کو اعتماد تھا کہ وہ سنت رسول کے ذریعے تمام پیش آمدہ معاملات کا فیصلہ کر سکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ اس اعتبار سے نہ تھا کہ سنت بہ اعتبار فہرست ایک مکمل فہرست ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ معلوم فہرست پر اجتہاد کا اضافہ کر کے وہ اس کو مکمل کر سکتے ہیں۔ اس روایت سے جو اصول دریافت ہوتا ہے، وہ یہ ہے—سنت پلس اجتہاد برابر ہے کامل اسوہ رسول کے : Sunnah plus Ijtihad is equal to ‘Uswah-e-Kamilah’

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page