لسُ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲
حدیثِ رسول ایک مطالعہ قرآن اور حدیث خالص علمی اعتبار سے، قرآن اور حدیث میں کوئی فرق نہیں۔ جس پیغمبر کی زبان سے حدیث کے الفاظ نکلے ہیں، قرآن کا کلام بھی یقینی طور پر اُسی پیغمبر کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ گویا کہ عام حدیث اگر صرف حدیث ہے تو قرآن کی حیثیت حدیث قدسی کی ہے۔ حدیث کے معاملے میں اگر راوی یہ کہتا ہے کہ: سمعت عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، تو قرآن کے معاملے میں پیغمبر یہ کہتا ہے کہ: سمعت عن جبريل۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن سے ہمارا تعلق براہِ راست نہیں ہے، بلکہ ہمارے اور قرآن کے درمیان ایک پیغمبر کا واسطہ موجود ہے۔ اگر پیغمبر کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو قرآن ہمارے لیے صرف لائبریری کی ایک کتاب کے مانند ہو جائے گا، وہ خدا کی طرف سے اتارا ہوا کلام نہ رہے گا۔ اس کے بعد قرآن کے حق میں وہ تاریخی اعتباریت (historical credibility) ہی باقی نہ رہے گی جس کی بنیاد پر ہم قرآن کو خدا کا ایک معتبر کلام مانتے ہیں۔
کسی کا یہ کہنا کہ میں قرآن کو مانتا ہوں، مگر میں حدیث کو نہیں مانتا، یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بظاہر قرآن کو مانتے ہوئے قرآن کا انکار کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن راویوں کے ذریعے ہم کو حدیث رسول پہنچی ہے، اُنھیں راویوں کے ذریعے ہم کو قرآن بھی ملا ہے۔ آج جو قرآن ہمارے ہاتھ میں ہے، وہ براہِ راست ہم پر نہیں اترا۔ وہ ٹھیک اِسی سلسلۂ روایت کے ذریعے ہم کو ملا ہے جس سلسلۂ روایت کے ذریعے احادیث رسول ہم تک پہنچی ہیں۔ ایسی حالت میں ایک کو ماننا اور دوسرے کو نہ ماننا، خالص غیر منطقی اور غیر علمی بات ہے۔ ایسے موقف کے لیے حقیقی طور پر کوئی جواز موجود نہیں۔ حدیث، ایک اعتبار سے، قرآن کے انطباق (application) کو بتاتی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ہے کہ تم اللہ کا ذکر کثیر (33:41) کرو۔ اس آیت کا عملی انطباق ہم کو حدیث کے ذریعے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues