Al-Risala · December 2013 · page 3

حسبنا کتاب الله

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳

معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ: کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يذكر الله على كل أحيانه (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 597)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ہر موقع (occasion) کو اللہ کی یاد کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بناتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل مستند طور پر بتاتا ہے کہ قرآن کی اصولی تعلیم کا عملی انطباق کیا ہے۔ کتاب اور سنت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری زمانے میں صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تركت فيكم أمرين، لن تضلوا ما تمسكتم بهما کتاب الله وسنة رسوله (موطأ، رقم :

1619) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطاب صحابہ کے واسطے سے، تمام امت سے ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ تم ہرگز گم راہ نہیں ہو گے، جب تک تم ان دونوں چیزوں کو پکڑے رہو گے۔ یہ دو چیزیں ہیں ــــ اللہ کی کتاب، اور اُس کے رسول کی سنت۔

قرآن اور سنت دونوں یکساں طور پر ہدایت الہی کا ماخذ ہیں۔ آج قرآن ایک چھپی ہوئی کتاب کی صورت میں ہر ایک کے پاس موجود ہے، لیکن ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن، کلام الہی کی حیثیت سے اترا تو وہ کتاب کی صورت میں نہیں اترا تھا، بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا تھا۔ معاصر اہل ایمان نے جس طرح حدیث کو پیغمبر کی زبان سے سنا، اُسی طرح انھوں نے قرآن کو بھی پیغمبر کی زبان سے سنا۔ پیغمبر کے بتانے سے سننے والوں نے یہ جانا کہ قرآن، اللہ کا کلام ہے۔ گویا کہ عام حدیث اگر حدیث رسول ہے تو قرآن کی حیثیت حدیث قدسی کی ہے۔

حسبنا کتاب الله

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہدایت کے لیے قرآن کافی ہے، ہدایت کے لیے ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک نیا ظاہر ہے جو موجودہ زمانے میں پیدا ہوا ہے۔ اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی یہ ذہن موجود نہ تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ساتویں صدی عیسوی میں خوارج کے نام سے جو فرقہ ظاہر ہوا، وہ یہی ذہن رکھتا تھا۔ علی اور معاویہ کے درمیان جو نزاع پیدا ہوئی، اس کے تصفیہ کے لیے خوارج نے قرآن کا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page