فضائل کی روایات
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
فضائل کی روایات
مولاناشبلی نعمانی (وفات: 1914) نے ”سیرت النبی‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ: ”امام بیہقی کتاب المدخل میں ابن مہدی کا قول کرتے ہیں: إذا رو يِنا عن النبي صلى الله عليه وسلم في الحلال والحرام والأحكام شدّدنا في الأسانيد وانتقدنا في الرجال، وإذا رو ينا في الفضائل والثواب والعقاب سهلنا في الأسانيد وتسامحنا في الرجال (فتح المغيث، صفحه 120) یعنی جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام کے متعلق حدیث روایت کرتے ہیں تو ہم سند میں نہایت تشدد کرتے ہیں، اور راویوں کو پرکھتے ہیں۔ لیکن جب ہم فضائل اور ثواب اور عقاب کی حدیثیں روایت کرتے ہیں تو ہم سندوں میں سہل انگاری کرتے ہیں اور راویوں کے متعلق چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔ “ (مقدمہ سیرت النبی، 1/52) تدوین حدیث کے وقت محدثین نے دو قسم کی روایتوں میں جو فرق کیا، وہ بلاشبہ ایک اجتہادی خطا کا معاملہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کے مطابق، ایسا کرنا اُن کے لیے درست نہ تھا۔ اس معاملے میں اصل سوال یہ نہیں تھا کہ جو روایت اُن کو حدیثِ رسول کے نام پر پہنچ رہی ہے، وہ اپنے متن کے اعتبار سے، مسائل سے متعلق ہے یا فضائل سے متعلق۔ اصل سوال یہ تھا کہ جس روایت کو پیغمبر خدا سے منسوب کیا جا رہا ہے، وہ باعتبار انتساب درست ہے یا نہیں۔ اس معاملے میں یہ ایک ثانوی بات ہے کہ حدیث میں کوئی قانونی مسئلہ بیان ہوا ہے یا کسی عمل کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ پیغمبر خدا سے اس کا انتساب سنداً ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں محدثین نے دو قسم کی روایتوں کے درمیان جو تفریق کی، اس کا ہرگز اُنھیں حق نہ تھا۔ اس معاملے میں محدثین کی حیثیت صرف ناقل کی تھی، ان کی حیثیت حج کی نہ تھی۔ ابتدائی دور کے محدثین کو جاننا چاہیے تھا کہ اگر انھوں نے روایتِ حدیث میں کوئی غلطی کر دی تو یہ غلطی قیامت تک باقی رہے گی، عملاً وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues