Al-Risala · February 2013 · page

تخلیقی ضعف ایک رحمت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

تخلیقی ضعف ایک رحمت

بلیز پاسکل (Blaise Pascal) ایک فرانسیسی سائنس داں تھا۔ وہ 1623 میں پیدا ہوا اور 1662 میں صرف 39 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہو گیا۔ 18 سال کی عمر میں وہ خرابی صحت (poor health) کا شکار ہو گیا۔ علاج کے باوجود وہ پھر کبھی صحت مند نہ ہو سکا۔ بلیز پاسکل ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوا تھا۔ اپنی آخری عمر میں اس نے سائنس کو چھوڑ دیا اور مذہب (theology) کے مطالعے میں مشغول ہو گیا۔ پاسکل کی سوانح حیات میں اس کے بارے میں درج ہے کہ ــــ آخری الفاظ جو پاسکل کی زبان سے نکلے، وہ یہ تھے:

Pascal’s last words were: “May God never abandon me”!

پاسکل نے جو کچھ کہا، وہ دراصل انسانی فطرت کی آواز ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفاً (28: 4) یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کا تخلیقی ضعف انسان کے لیے ایک رحمت ہے۔ اسی ضعف کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان خدا کے مقابلے میں اپنے عجز (helplessness) کو دریافت کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان اپنی حیثیت واقعی کی دریافت سے محروم رہ جائے۔ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ (minus point) کا ایک پلس پوائنٹ (plus point) ہے۔ نادان آدمی مائنس پوائنٹ میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور دانش مند آدمی پلس پوائنٹ کو دریافت کر کے اپنی ترقی کا نیا راز پا لیتا ہے۔ انسان کا تخلیقی ضعف اُس کو سرکش بننے سے بچاتا ہے، وہ آدمی کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پیدا کرتا ہے، وہ آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ بے جا خود اعتمادی (over confidence) کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے، وہ آدمی کو انسان حقیقی (man cut to size) بننے میں مدد دیتا ہے، وہ انسان کو خدا فراموشی کی برائی میں مبتلا ہونے نہیں دیتا، وہ انسان کو خدا سے قریب کرنے والا ہے، وہ انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے معاملات کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page