Al-Risala · December 2013 · page 43

Muhammad was the only man in history who was

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۴۳

یہ سب سے بڑا معجزاتی واقعہ تھا۔ یہ دراصل رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے پیش آنے والا وہ فکری انقلاب تھا جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایک عظیم تاریخی عمل (great historical process) شروع ہوا، جو مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اس نقطہ انتہا پر پہنچا کہ پیغمبر اسلام کی ذات مسلمہ طور پر پوری نسل انسانی کے درمیان ممتاز ترین شخصیت بن گئی۔ یہی وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو پیغمبر اسلام نے ’سید ولد آدم‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔

ایم این رائے نے اپنی کتاب میں جس واقعے کا ذکر غیر معمولی معجزہ کے طور پر کیا ہے، وہ اس معاملے کے اُس پہلو سے تعلق رکھتا ہے جس کو عالمی انقلابی عمل کہا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے کے طور پر پیغمبر اسلام کی شخصیت پوری نسل آدم میں ممتاز ترین شخصیت بن گئی۔

اس انقلابی واقعے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی ممتاز حیثیت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس موضوع پر ایک مشہور کتاب وہ ہے جو امریکا کے ایک مسیحی مصنف ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے شائع کی ہے۔ مصنف نے اپنی اس کتاب میں پوری انسانی تاریخ کے ایک سو ممتاز ترین افراد کی لسٹ تیار کی ہے۔ یہ افراد مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کتاب میں انھوں نے ان تمام افراد کا ترتیب وار ذکر کیا ہے۔ اس فہرست میں سب سے پہلا نام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ مصنف نے پیغمبر اسلام کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں— آپ تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی:

Muhammad was the only man in history who was

supremely successful on both, the religious and secular levels. (Dr. Michael H. Hart, The 100, New York 1978)

ڈاکٹر مائیکل ہارٹ کی یہ کتاب گو یا ’سید ولد آدم‘ کی تاریخی تشریح ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات 14 سو سال پہلے کہی تھی، وہ اُس وقت ایک پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی۔ ہزار سالہ عمل کے بعد یہ پیشین گوئی ایک تاریخی واقعہ بنی۔ یہ بات عملی طور پر اتنی زیادہ مسلم ہو گئی کہ موجودہ زمانے کے بہت سے مبصرین نے کھلے طور پر اس واقعے کا اعتراف کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page