Exceptionally, the greatest man of history.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۴۲
قیامت میں جو کچھ ہوگا، وہ صرف یہ کہ قیامت میں ہر چیز سے التباس کا پردہ اٹھ جائے گا۔ اس لیے قیامت میں ہر ایک بلا اشتباہ اُس واقعے کو جان لے گا جو موجودہ دنیا میں ایک تاریخ کے طور پر پیش آیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ساتویں صدی کے ربع اول میں کہی تھی۔ اُس وقت کے حالات میں بظاہر اس کا ادنیٰ امکان نہیں تھا کہ آپ کسی وقت پوری نسل انسانی میں نمایاں ترین شخص کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ بات صرف اللہ رب العالمین کے علم میں تھی کہ وہ خاتم النبیین کو ایک ایسی تاریخی شخصیت (historical figure) کا درجہ دینے والا ہے جو تمام نسل انسانی میں ممتاز ترین درجہ ہے۔ یہ اس لیے تھا کہ لوگوں کے لیے آپ کو پہچاننا ممکن ہوجائے۔ 'سید ولد آدم' کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ استثنائی طور پر تاریخ کا عظیم ترین انسان:
Exceptionally, the greatest man of history.
یہ اللہ کا ایک منصوبہ تھا جو اس لیے تھا کہ خاتم النبیین کو خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے پہچاننا لوگوں کے لیے مشکل نہ رہے۔ چناں چہ اللہ کے مخصوص منصوبے کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ایسا تاریخی عمل (historical process) جاری ہوا کہ رسول اللہ کی ذات بطور ایک تاریخی واقعہ کے پوری انسانی نسل کی نمایاں ترین شخصیت بن گئی۔ یہ ایک ایسا معلوم واقعہ ہے کہ سیکولر مبصرین نے بھی عام طور پر اس کو تسلیم کیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں صرف دو حوالے نقل کیے جاتے ہیں۔ مشہور کمیونسٹ رائٹر ایم این رائے (وفات: 1954) کی ایک کتاب ہے جو 1939 میں پہلی بار دہلی سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب تقریباً 100 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The Historical Role of Islam مصنف نے اپنی اس کتاب میں دور اول میں پیش آنے والے اسلامی انقلاب کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں اسلام کا پھیلاؤ تمام معجزاتی واقعات میں سب سے بڑا معجزاتی واقعہ تھا: The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues